| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو وہ ہم سے نہیں ۱؎ یا اس نے نافرمانی کی ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی ہم سے ملا ہوا ہم سے قریب نہیں یا اس جماعت سے نہیں جن سے ہم راضی ہیں کیونکہ اس نے کفران نعمت کیا ہے کہ تیر اندازی جیسی عبادت سیکھ کر بھلادی ہر عبادت کا یہ ہی حال ہے کہ اسے حاصل کرکے سستی سے بھلادیا۔ ۲؎ عصٰی یا تو حضور انور کا فرمان ہے یا راوی نے تردد فرمایا کہ مجھے پوراخیال نہیں یا حضور نے یہ فرمایا اور یا یہ لفظ ارشاد فرمایا۔