Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
756 - 1040
حدیث نمبر756
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب روم تم پر فتح کیا جائے گا اور اﷲ تمہیں کفایت کرے گا ۱؎  تو تم سے کوئی اس سے عاجز نہ ہوجائے کہ اپنے تیروں سے کھیلے۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی خلافت فاروقی میں روم جیسی مضبوط سلطنت تمہارے زیر نگین ہوگی اور اﷲ تعالٰی تم کو رومی عیسائیوں کے شر سے محفوظ کردے گا کیونکہ وہ تمہاری رعایا بن جائیں گے۔اس مخبر صادق صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ غیبی خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں پوری ہوئی۔

۲؎ یعنی چونکہ تم نے روم جیتنا ہے اور رومی لوگ نہایت اعلیٰ درجے کے تیر انداز ہیں لہذا ابھی سے تیر اندازی کی مشق کرو اس سے غافل نہ رہو تاکہ اس جنگ کے وقت تمہارا یہ فن کام آوے۔اس تیر اندازی کو لہو فرمانا رغبت کے لیے ہے یعنی یہ فن عبادت بھی ہے اور دل لگی فرحت و سرور،قوت و طاقت حاصل ہونے کا ذریعہ بھی لہذا اس سے غافل نہ رہو،نفس لہو یعنی کھیل کود کی طرف راغب ہے،دل عبادت کا خواہاں،تیر اندازی میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں لہذا یہاں لہو سے مراد غفلت کی چیز نہیں بلکہ مراد رغبت کی چیز ہے،صحابہ کرام نے اس حدیث پر عمل کیا اور جیتنا عہد فاروقی میں۔ کاش آج اسکولوں میں بجائے ہاکی کرکٹ اور فٹ بال کے ایسے کھیل کھلائے جائیں جو کھیل بھی ہوں اور ہنر بھی جیسے گھوڑ دوڑ اور نشانہ بازی۔خیال رہے کہ دنیا میں تین اعظم گزرے ہیں جنہوں نے بڑی فتوحات کیں سکندر اعظم،نپولین اعظم اور فاروق اعظم،سکندر اور ذوالقرنین کی فتوحات غیروں کے پاس چلی گئیں مگر فاروق اعظم کی فتوحات بفضلہ تعالٰی اب تک تمام کی تمام مسلمانوں کے قبضے میں ہیں جیسے روم،شام،ایران،عراق وغیرہ اﷲ تعالٰی دائم قائم رکھے۔
Flag Counter