۱؎ آلات جہاد سے مراد سامان و اسباب جہاد ہیں خواہ ہتھیار ہوں جن سے دشمن پر جارحانہ کاروائی کی جاتی ہے یا بار برداری کے سامان جن کے ذریعہ میدانِ جہاد میں جانا اور لے جانا ہوتا ہے جیسے تیر وتلوار،نیز بھالے یا آج کل بندوق توپ راکٹ وغیرہ اور جیسے گھوڑے اونٹ وغیرہ اور آج کل موٹریں ہوائی جہاز وغیرہ غرضیکہ اس ایک کلمہ میں بہت ہی وسعت ہے۔
حدیث نمبر755
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو سنا حالانکہ آپ ممبر پر تھے ۲؎ کہ فرماتے تھے تیار کرو ان کے مقابل وہ قوت جس کی طاقت رکھو خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے،خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے،خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،جہنی ہیں،امیر معاویہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے جب کہ امیر معاویہ کے بھائی عتبہ ابن ابو سفیان وفات پا گئے پھر امیر معاویہ نے انہیں معزول فرمادیا، ۵۸ ہجری میں مصر ہی میں وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے،آپ سے بہت سے صحابہ و تابعین نے روایات لی ہیں۔(مرقات) ۲؎ مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث صرف میں نے ہی نہیں سنی بلکہ میرے ساتھ بہت صحابہ نے سنی ہے کیونکہ آپ نے خطبہ جمعہ یا کسی وعظ میں برسرمنبر علانیہ فرمائی ہے۔ ۳؎ یعنی قرآن مجید کی اس آیت میں جس ثبوت کا حکم تاکیدی دیا گیا ہے وہ قوت آج کل تیر اندازی ہے۔آیت کریمہ کا مقصد فی زمانہ اسی طرح حاصل ہوگا کہ مسلمان تیر لگانے نشانہ لگانے کی خوب مشق کریں۔فقیر کی اس شرح سے یہ اعتراض اٹھ گیا اگر صرف تیر اندازی سیکھنا ضروری ہے تو آج کل نہ تیر ہیں نہ اس کی مشق تو اب اس آیت پر عمل کیسے ہو کیونکہ اب بجائے تیر کے گولہ بارود توپوں سے،گولہ باری ہوائی جہازوں سے،بم باری،راکٹ اندازی ہے،اب ان چیزوں کا سیکھنا اس آیت کریمہ پرعمل ہے بشرطیکہ جہاد فی سبیل اﷲ کی نیت سے ہو۔