| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت علی،ابوالدرداء،ابوہریرہ،ابو امامہ عبداﷲ ابن عمر اور عبداللہ ابن عمرو اور جابر بن عبداﷲ اور عمران بن حصین سے یہ تمام حضرات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں ۱؎ کہ حضور نے فرمایا جو شخص راہِ خدا میں کچھ خرچہ بھیج دے۲؎ اور خود اپنے گھر میں رہے۳؎ اسے ہر درہم کے عوض سات سو درہم ملیں گے۴؎ اور جو راہِ خدا میں بذات خود جہاد کرے اور اس کی راہ میں خرچ کرے تو اس کے لیے ہر درہم کے عوض سات لاکھ درہم ہیں پھر حضور نے یہ آیت تلاوت کی اﷲ جسے چاہے گا بہت زیادہ دے گا ۵؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ چونکہ ان آٹھوں صحابہ نے الگ الگ یہ روایت کی ہے اس لیے یحدث واحد کا صیغہ ارشاد ہوا جمع یعنی یحدثون نہ فرمایا۔(مرقات) ۲؎ روپیہ یا موسم کے مطابق نمازیوں کے لیے کپڑے یا ان کے لیے راشن یا ہتھیار۔غرضیکہ کوئی چیز جو مجاہدوں کو ضروری ہو ان کے لیے کھیل کا سامان،گانے بجانے کے آلات،سینما فلم وغیرہ مراد نہیں کہ ان کا استعمال عام لوگوں کو ممنوع ہے اور مجاہدوں کو زیادہ ممنوع کہ وہ راہِ خدا میں سربکف ہیں،شہادت کی موت انکے سامنے ہے انہیں اس وقت بہت ہی تقویٰ اختیار کرنا چاہیے سرکاری ملازموں کا جب ریٹائر ہونے کا زمانہ قریب ہوتا ہے تو وہ بہت احتیاط برتتے ہیں کہ کہیں ہماری بے احتیاطی پنشن پر اثر نہ کرے۔ ۳؎ کیونکہ اس وقت جہاد فرض کفایہ ہو فرض عین نہ ہو،ورنہ فرض عین ہونے کے وقت تو ہر مسلمان کو جہاد کرنا چاہیے،اس وقت گھر میں رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ۴؎ اس کا ماخذ وہ آیت کریمہ ہے"مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ" ۵؎ اس طرح کہ جانی اور مالی دونوں قسم کا جہاد کرے تو چونکہ اس کا عمل زیادہ ہے اس لیے اجر بھی زیادہ،یہ حدیث اس آیت کے اس جز کی شرح ہے "وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔