۱؎ آپ حسناء بنت معاویہ ابن سلیم صرمیہ ہیں،تابعیہ ہیں،بعض نے فرمایا کہ آپ کا نام خنساء ہے اور حسناء آپ کا لقب ہے،آپ کے دو چچا ہیں حارث اور اسلم۔غالبًا یہ روایت حارث سے ہے آپ نے عوف اعرابی سے روایات لیں۔
۲؎ یعنی ہر ناسمجھ بچہ جنتی ہے خواہ مسلمان کا بچہ ہو یا کافر کا حتی کہ کچاگرا ہوا بچہ بھی جنتی ہے اگرچہ مؤمن کا بچہ جنت کے اعلیٰ مقام میں ہوگا اور کافر کا بچہ ادنی جگہ میں یا دیگر اہلِ جنت کا خادم۔
۳؎ کفار عرب اپنی لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیتے تھے اسے موؤدہ کہتے تھے۔وئید کے بھی یہ معنی ہیں یعنی کفار کی بچیاں جو زندہ درگورکردی گئیں ہیں وہ جنتی ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار کے ناسمجھ بچے جنتی ہیں،اس کے مخالف روایات اس حدیث سے منسوخ ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِذَا الْمَوْءٗدَۃُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتْ"جب زندہ دابی ہوئی بچی سے پوچھا جائے کہ تو کس قصور میں ماری گئی تھی اگر وہ خود ہی دوزخی ہوتی تو اس سوال کے کیا معنی ہوتے۔غرضیکہ اس حدیث کی تائید بہت سی آیات سے ہے،رب تعالٰی بغیر گناہ کسی کو دوزخ نہ دے وہ کریم ہے،چونکہ یہ چاروں جماعتیں یعنی انبیاء شہداء بچے اور موؤدہ بغیر حساب جنت میں جائیں گے اسی لیے خصوصیت سے ان چار کا ذکر ہوا،ورنہ جنتی اور لوگ بھی ہیں۔خیال رہے کہ جنت کسبی،عطائی،وہبی تین طرح حاصل ہوگی،اپنے اعمال سے،اپنے بزرگوں کے اعمال سے جیسے مسلمانوں کے بچے صرف عطا ذوالجلال سے جیسے ایک مخلوق جنت پر کرنے کے لیے پیدا کی جائے گی مگر دوزخ صرف کسبی طور سے ملے گی وہبی یا عطائی نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَہَلْ نُجٰزِیۡۤ اِلَّا الْکَفُوۡرَ"اور فرماتاہے:"ہَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ"۔
۴؎ یہ حدیث احمد نے بھی روایت کی اور جامع صغیر میں بھی ہے۔(مرقات)