| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎ فرماتے ہیں جناب عمر ابن خطاب کو سناکہ فرماتے تھے میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ شہید چار قسم کے ہیں ایک کھرے ایمان والا مؤمن ۲؎ جو دشمن سے ملے تو اﷲ کی تصدیق کرے۳؎ حتی کہ مارا جاوے یہ وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف یوں آنکھیں اٹھائیں گے۴؎ اور اپنا سر اٹھایا حتی کہ آپ کی ٹوپی گرگئی ۵؎ مجھے خبر نہیں حضرت عمر کی ٹوپی مراد لی ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ٹوپی شریف ۶؎ فرمایا اور ایک وہ شخص جو کھرے ایمان والا ہے ۷؎ دشمن سے ملے گویا اس کی کھال میں بزدلی کی وجہ سے خار دار درخت کے کانٹے چبھودیئے گئے ۸؎ اسے غائبانہ تیر لگا قتل کردیا ۹؎ تو یہ دوسرے درجہ میں ہے ۱۰؎ اور ایک بندہ مؤمن جس نے نیک و بد اعمال ملے جلے کیے ۱۱؎ دشمن سے ملا اﷲ کی تصدیق کی حتی کہ قتل کردیا گیا ۱۲؎ تو یہ تیسرے درجہ میں ہے ۱۳؎ اور ایک بندہ مؤمن جس نے اپنے نفس پر زیادتی کی ۱۴؎ دشمن سے ملا اﷲ کی تصدیق کی حتی کہ قتل کیا گیا ۱۵؎ تو یہ چوتھے درجے میں ہے ۱۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن و غریب ہے۔
شرح
۱؎ آپ کے حالات فصل دوم کے شروع میں گزر چکے۔ ۲؎ خواہ مرد ہو یا عورت۔کھرے ایمان سے مراد یہ ہے کہ اس کے عقائد بھی درست ہوں اعمال بھی اور متقی پرہیزگار ہو جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔ ۳؎ فصدق کی قرأت دال کے شد سے بھی ہے اور بغیر شد کے بھی لہذا اس جملہ کے دو معنی ہیں،اگرشد سے ہے تو معنی یہ ہیں کہ اﷲ کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں،شوق وذوق سے کفار کو مارے اور شہید ہوکر جان دیدے اوربغیر شد کی صورت میں معنی یہ ہیں کہ اﷲ تعالٰی کو سچ کر دکھائے وہ تمام وعدے جو اس نے رب سے کیے تھے کیونکہ مؤمن ایمان لاکر اﷲ تعالٰی سے بہت سے وعدے کرلیتا ہے اور اﷲ تعالٰی اس سے بہت سے وعدے فرمالیتا ہے،اس کی تفصیل ہماری تفسیر میں ملاحظہ کرو،رب فرماتاہے:"مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عٰہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ"۔اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہے جو مؤمن رب سے کرتا ہے۔ ۴؎ لوگوں سے مراد عام مؤمنین اہل محشر ہیں اگر قیامت سے مراد میدان قیامت ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ خود میدان قیامت میں لوگوں کے مقام مختلف ہوں گے،اچھے اعمال والے اونچی جگہ ہوں گے اور گنہگار نیچی جگہ اور اگر جنت مراد ہے تب تو ظاہر ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں،ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ۵؎ اتنا سر اٹھایا اتنہائی بلند کے اظہارکے لیے ہے یعنی جیسے سر کے اوپر چاند یا تاروں کو دیکھو تو ٹوپی گر جاتی ہے ایسے ہی ان کو دیکھنے والوں کا یہ حال ہوگا۔ ۶؎ یہ ان راوی کا قول ہے جو حضرت فضالہ سے روایت فرمارہے ہیں اور اراد کا فاعل حضرت فضالہ ہیں یعنی حضرت فضالہ نے کس کی ٹوپی مراد لی یہ مجھے خبر نہیں اور میں ان سے پوچھنا بھی بھول گیا۔ظاہر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی مراد ہوگی۔(اشعہ)غالبًا اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف ٹوپی نہیں پہنتے تھے بلکہ عمامہ شریف استعمال فرماتے تھے۔واﷲ اعلم! ۷؎ یعنی اس کے عقائد و اعمال سب درست ہیں مگر بہادری و شجاعت میں پہلے سے کم ہے ایسے موقعہ پرگھبرا جاتا ہے جیسا کہ اگلے فرمان سے ظاہر ہے۔ ۸؎ عرب شریف میں طلحہ ایک خاردار درخت کا نام ہے جو ببول کی طرح اونچا ہوتا ہے اور کانٹوں سے بھرا ہوتا ہے اس کے کاٹنے بھی لمبے ہوتے ہیں یعنی وہ ہے تو متقی مسلمان مگر قدرتی طورپر کچھ کمزور دل ہے کہ جہاد کے میدان میں خوف سے اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جسم میں کپکپی پیدا ہوجاتی ہے جیسے اس کے جسم میں ببول کے کانٹے چبھ گئے ہوں۔ ۹؎ یعنی وہ میدان جہاد میں پہنچ گیا مگر اس نے جہاد کیا نہیں اپنی دلی کمزوری کی وجہ سے اس کے باوجود وہ شہید ہوگیا ایسے تیر سے جس کا چلانے والا معلوم نہیں۔ ۱۰؎ کیونکہ اس کے پاس ایمان و تقویٰ تو ہے مگر بہادری اور جرات و دلیری نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بہادر و قوی مؤمن کمزور اور بزدل مؤمن سے افضل ہے۔(مرقات) ۱۱؎ یعنی اس کا ایمان تو درست ہے مگر اعمال مخلوط ہیں اسے حضور نے جید الایمان(کھرے ایمان والا)نہ فرمایا کیونکہ ایمان کا جید ہونا تقویٰ و طہارت سے ہوتا ہے۔ ۱۲؎ اس جملہ کی تحقیق اور صدق اﷲ کی دو قرأتیں ہم ابھی اسی حدیث میں عرض کرچکے ہیں،یعنی یہ شخص مخلوط الاعمال ہے مگر بہادروشجاع ہے،جہاد کیا بہادری کے جوہر دکھا مرا۔ ۱۳؎ معلوم ہوا کہ بہادری سے تقویٰ افضل ہے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بہادر غیرمتقی کو متقی غیر بہادر سے پیچھے رکھا،تقویٰ عجیب چیز ہے۔ ۱۴؎ اس طرح کہ اس نے اپنی زندگی گناہوں خطاؤں میں گزاری اس جملہ پاک میں خوارج اور معتزلہ دونوں کی تردید ہے کہ خوارج تو گنہگارکو کافر کہتے ہیں اور معتزلہ نہ کافر نہ مؤمن،اہل سنت کے نزدیک وہ مؤمن ہے حضور انور نے اسے مؤمن فرمایا،قرآن کریم میں بھی اسے مؤمن کہا گیا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے"وَ اِنۡ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اقْتَتَلُوۡا"۔دیکھو آپس میں جنگ جدال کرنے والے گنہگاروں کو مؤمن فرمایا گیا،ہمارے ہاں اعمال ایمان کا جز نہیں ذریعہ کمال ایمان ہیں۔ ۱۵؎ یعنی تھا فاسق مگر تھا بہادر،شجاعت کے جوہر دکھا کر شہادت کا پیالہ پیا۔ ۱۶؎ اس ترتیب مراتب کا خلاصہ یہ ہے کہ شہید یا تو متقی بھی ہے اور بہادر بھی یہ اول درجہ کا ہے۔یا متقی ہے مگر بہادر نہیں یہ دوسری قسم کا ہے یا بہادر ہے مگر متقی نہیں،اس کی پھر دو قسمیں یا فاسق و مسرف نہیں وہ تیسرے درجہ میں ہے یا فاسق اور مسرف ہے یہ چوتھے درجے میں ہے۔خیال رہے کہ اس حدیث میں تصدیق سے مراد شجاعت و بہادری۔(اشعہ و لمعات)