Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
75 - 1040
حدیث نمبر 75
 روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میرے پاس انصار کی ایک لڑکی تھی ۱؎ جس کا میں نے نکاح کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے عائشہ تم گیت کیوں نہیں گاتیں ۲؎ کیونکہ یہ قبیلہ انصار گیت گانا پسند کرتے ہیں ۳؎
شرح
۱؎ یہ بچی یا تو حضرت ام المؤمنین کی کوئی عزیز قریبی تھی یا یتیمہ تھی جو آپ نے پرورش کی تھی پہلا احتمال قوی ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎ یعنی خود کیوں نہیں گیت گاتیں یا کسی لڑکی سے گانے کو کیوں نہیں کہتیں یا کوئی گانے والی کیوں نہیں گاتی،یہ صیغہ یا واحد مخاطبہ کا ہے یا غائبہ کا۔(مرقات)

۳؎ یعنی انصار شادی بیاہ میں گیت وغیرہ کو محبوب رکھتے ہیں اور نکاح بھی انصاری بچی کا ہے،تو گیت بہتر تھا،۔گیت کی تحقیق پہلے ہوچکی کہ شادی میں چھوٹی بچیوں کا دف بجانا گانا یا بالغہ عورت کا آہستہ آواز سے جائز گیت گانا جائز ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔ جوان عورتوں کو اونچی آواز سے عشقیہ حرام گانے خصوصًا جب کہ اجنبی مردوں تک آواز پہنچے سخت حرام بلکہ بڑے فساد کا باعث ہے جیسے پاکیزہ گیت شادیوں پر عرب میں مروج تھے ان کا نمونہ آگے آرہا ہے۔
Flag Counter