| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جناب عائشہ نے اپنے ایک قرابت دار انصاری کا نکاح کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا ۱؎ عرض کیا ہاں فرمایا کیا اس کے ساتھ اس کو بھیجا جو گیت گائے بولیں نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار ایسی قوم ہے جس میں غزل خوانی کا رواج ہے ۲؎ تم اس کے ساتھ بھیجتیں جو کہتا ہم آگئے ہم آگئے اﷲ ہم کو بھی اور تم کو بھی زندگی دے ۳؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی صرف نکاح کیا ہے یا رخصت بھی کردی اور لڑکی خاوند کے پاس بھیج بھی دی۔ ۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ مہاجر ین مکہ میں شادی کے موقعہ پر گیت و غزل کا رواج نہ تھا انصار مدینہ میں رواج تھا۔ ۳؎ یہ وہ پاکیزہ گیت ہیں جن کی اجازت دی گئی تھی گیت کیا ہے حمد الٰہی ہے تبلیغ ہے دعا ہے اور پیاروں سے ملنے پر خوشی کا اظہار ہے ایسے اشعار تو ایک طرح عبادت ہیں ان احادیث کی بنا پر اس زمانہ کے فلمی گانوں کا جواز ثابت کرنا سخت حماقت ہے اور منکرین حدیث کا انکار کرنا جہالت ہے۔