Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
76 - 1040
حدیث نمبر 76
 روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جناب عائشہ نے اپنے ایک قرابت دار انصاری کا نکاح کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا ۱؎ عرض کیا ہاں فرمایا کیا اس کے ساتھ اس کو بھیجا جو گیت گائے بولیں نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار ایسی قوم ہے جس میں غزل خوانی کا رواج ہے ۲؎ تم اس کے ساتھ بھیجتیں جو کہتا ہم آگئے ہم آگئے اﷲ ہم کو بھی اور تم کو بھی زندگی دے ۳؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی صرف نکاح کیا ہے یا رخصت بھی کردی اور لڑکی خاوند کے پاس بھیج بھی دی۔

۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ مہاجر ین مکہ میں شادی کے موقعہ پر گیت و غزل کا رواج نہ تھا انصار مدینہ میں رواج تھا۔

۳؎ یہ وہ پاکیزہ گیت ہیں جن کی اجازت دی گئی تھی گیت کیا ہے حمد الٰہی ہے تبلیغ ہے دعا ہے اور پیاروں سے ملنے پر خوشی کا اظہار ہے ایسے اشعار تو ایک طرح عبادت ہیں ان احادیث کی بنا پر اس زمانہ کے فلمی گانوں کا جواز ثابت کرنا سخت حماقت ہے اور منکرین حدیث کا انکار کرنا جہالت ہے۔
Flag Counter