| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ جب احد کے دن تمہارے بھائی شہید کیے گئے تو اﷲ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں رکھیں ۱؎ وہ جنت کی نہروں پرجاتی ہیں اس کے پھل کھاتی ہیں ان سونے کے قندیلوں کی طرف بسیرا لیتی ہیں جو عرش کے سایہ میں لٹکی ہوتی ہیں۲؎ جب ان شہدانے اپنے کھانے پینے آرام و راحت کوپایا۳؎ تو بولے کہ ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے یہ پیغام کون پہنچائے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں۴؎ تاکہ وہ جنت سے بے رغبت نہ ہوجاویں اور جہاد کے وقت بزدلی یا بے دلی نہ کریں ۵؎ تو اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ تمہاری طرف سے یہ پیغام ہم پہنچاتے ہیں تب رب نے یہ آیت اتاری کہ اﷲ کی راہ میں مقتول لوگوں کو مردہ نہ سمجھو ۶؎ بلکہ وہ تو زندہ ہیں تا آخرآیات۷؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ جیسے یہ روحیں دنیا میں انسانی جسم میں تھیں مگر اس طرح کہ اس جسم کی تربیت کرتی تھیں اور ان کی اپنی روحیں تھیں ،اس طرح رب نے وہ ہی روحیں سبز پرندوں کے جسموں میں امانت کے طور پر رکھیں مگر اب وہ روحیں ان جسموں کی تربیت نہیں کرتیں نہ وہ جسم ان روحوں کے اپنے ہیں اور وہ روحیں انسانی روحیں یعنی نفس ناطقہ میں رہیں لہذا اس سے آریوں کا تناسخ جسے وہ اواگون کہتے ہیں ثابت نہیں ہوتا۔وہ سبز پرندوں کے جسم ان روحوں کے لیے ایسے ہیں جیسے دنیا میں ہمارے لیے لباس یا مکان اسی لیے فی جوف ارشاد ہوا۔ ۲؎ یہ غذا اور پانی ان روحوں کے لیے ہی ہے وہ جسم اس سے پرورش نہیں پاتے اس لیے یہاں غذا اور بسیرے کو روحوں کی طرف نسبت فرمایا گیا،ان روحوں کا اڑ کر ہر جگہ پہنچنا ایسا ہے جیسے ہمارا ہوائی جہاز میں بیٹھ کر اڑنا۔ خیال رہے کہ ان روحوں کے جنت میں ہونے سے یہ لازم نہیں کہ ان شہدا کی قبریں روحوں سے خالی ہوگئیں یا جسم بے کار ہوکر گل سڑ گئے وہ جنت میں بھی ہیں اور اپنی قبروں میں بھی،پھر اس جہان کی سیر کرتی ہیں،دنیا والوں کو جانتی پہچانتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ "جو لوگ ابھی ان تک نہیں پہنچے ان کے متعلق خوشیاں منارہے ہیں کہ وہ بھی عنقریب ان کے پاس پہنچنے والے ہیں۔دیکھو ہمارا نور نظر آسمان پر پہنچنے کے باوجود آنکھوں میں بھی رہتا ہے سورج کی شعاعیں زمین پر پہنچ کر بھی آسما ن بلکہ سورج میں رہتی ہیں،اس کی بحث پہلے بھی کی جاچکی ہے اس کا بہت خیال رہے۔ ۳؎ خیال رہے کہ ماکل،مشرب اور مقیل تینوں مصدر میمی ہیں اسم ظرف نہیں،مقیل دوپہر کے آرامگاہ کو کہتے ہیں۔قیلولہ سے بنا ہے یہاں عیش و آرام مراد ہے جنت میں بلکہ بعد موت نیند نہیں،حدیث شریف میں جو ہے کہ قبر میں بندہ مؤمن سے فرشتے کہتے ہیں نم کنومۃ العروس تو سوجا دلہن کی طرح وہاں یہ سونا مراد نہیں جاگنے کا مقابل بلکہ بے فکری والا آرام مراد ہے،محاورہ میں غفلت اور عیش دونوں کو نیند سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ع جملہ عالم راہمہ درخواب داں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان شہداء کو کھانے پینے کی اجازت تو ہوتی ہے مگر حوروں کی اجازت نہیں وہ تو بعد قیامت ہوگی جب اس جسم سے داخلہ ہوگا۔ ۴؎ یعنی زندہ ہیں اور جنت میں ہیں،یہ مطلب نہیں کہ ہم جنت میں زندہ اور دنیا میں مردہ ہیں جیساکہ اس زمانہ کے بعض بے دین کہتے ہیں۔ ۵؎ ینکلو نکل سے بنا بمعنی بزدلی۔(مرقات)بے دلی و بے رغبتی۔(اشعۃ اللمعات)یعنی جہاد جنت کے گلزار کا راستہ راہ خدادار ہے لہذا ان کانٹوں کی پرواہ نہ کرو یہاں کے گلزار تک پہنچو۔ ۶؎ اسمیں خطاب یا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے یا ہر مسلمان سے،قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا گیا کہ شہداء کو مردہ نہ کہو،یہاں فرمایا گیا کہ انہیں مردہ نہ سمجھو،کہنا زبان یا قلم سے ہوتا ہے،سمجھنا دل و دماغ سے،جتنی تاکید رب تعالٰی نے حیات شہداء کی کی ہے اتنی تاکید اور کسی چیز کی نہ کی کہ مؤمن کے زبان،قلم، دل،دماغ سب کو انہیں مردہ کہنے سمجھنے سے روک دیا۔ ۷؎ وَاَنَّ اللہَ لَا یُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیۡنَ" تک کی آیت نازل فرمائیں جن میں شہداء کا زندہ ہونا،جنت کی سیر کرنا،وہاں کے پھل فروٹ کھانا،دنیا والوں کے حالات سے خبردار رہنا جو لوگ کہ ابھی دنیا میں ہیں مگر کچھ دنوں بعد ان سے ملنے والے ہیں ان کی آمد پر خوشیاں منانا لوگوں کے انجام سے خبردار ہونا،سب کچھ ہی بیان فرمایا۔ جب شہید کی زندگی اس کے عیش و آرام،اس کے علم کی یہ حالت ہے تو جن محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے دم کی یہ ساری بہاریں ہیں ان کی حیات و علم کی کیا کیفیت ہے۔