Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
746 - 1040
حدیث نمبر746
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ تلے ہیں ۱؎  تو ایک فقیر الحال شخص کھڑا ہوگیا ۲؎ بولا اے ابو موسیٰ کیا تم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ۳؎ فرمایا ہاں تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا ۴؎ پھر بولا میں تم کو سلام(وداعی)کرتا ہوں ۵؎ پھر اپنی تلوار کا غلاف توڑا اسے پھینک دیا ۶؎ پھر اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف چل پڑا اس سے دشمن پر حملہ کیا حتی کہ قتل کیا گیا ۷؎(مسلم)
شرح
۱؎ تلواروں سے مراد جہاد کے ہتھیار ہیں،چونکہ اس زمانہ میں جہاد میں زیادہ استعمال تلواروں کاہوتا تھا اس لیے خصوصیت سے تلواروں کا ہی ذکر فرمایا۔آج کل توپوں،بندوقوں،راکٹوں کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے نیچے جنت ہے جبکہ وہ جہاد میں استعمال ہورہے ہوں۔ان تلواروں سے مراد یا تو کفار کی تلواریں ہیں جو وہ غازی مسلمانوں کے مقابل کھینچیں یعنی ان تلواروں سے جنت بہت قریب ہے کہ مسلمان شہید ہوا اور جنت میں پہنچا۔جیسے فرمایا گیا کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یا مراد خود مجاہدین کی اپنی تلواریں ہیں یعنی جب مجاہدین تلوار سونتے کفار پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو گویا جنت ان تلواروں کے سایہ میں ہوتی ہے اور سایہ میں تو خود مجاہدین ہیں تو وہ اس وقت ہی جنت میں ہیں مگر پہلی توجیہ زیادہ قوی ہے،مرقات نے اس ہی کو ترجیح دی ہے۔

۲؎ اس مقبول بندے کا نام معلوم نہ ہوسکا کوئی غریب شکستہ حال بے پرو جو اس جہاد میں آیا تھا وہ یہ بولا،رضی اللہ عنہ۔

۳؎ یعنی اے صحابی رسول کیا تم نے بلاواسطہ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے یا کسی ذریعہ سے تم کو یہ فرمان عالی پہنچا ہے اور کیا یہ فرمان یقینی ہے۔

۴؎ جو اس کے ساتھ جہاد میں آئے ہوئے تھے۔

۵؎ اب میں شہید ہونے جارہا ہوں لوٹ کر آنے کا ارادہ نہیں ہے،اب محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے وصال کا وقت قریب ہے۔شعر

آئی نسیم کوئے محمد صلی اللہ علیہ و سلم 	کھنچنے لگا دل سوئےمحمدصلی اللہ علیہ و سلم

۶؎  کیونکہ اب اس غلاف کی ضرورت نہ رہی تلوار بند کرنا نہیں ہے،اب مارنا ہے یہ ہے شوق شہادت،جذبہ جہاد حضرت زرا  ابن ازدر رضی اللہ عنہ بغیر زرہ پوستین پہنے جہاد کرتے تھے۔شوق شہادت میں عاشقوں کے حالات بتارہے ہیں۔

۷؎ اس طرح کہ نہ معلوم کتنے کافروں کو قتل کیا پھر بہادری کے جوہر دکھا کر سینے میں تیرتلوار کھا کر شہید ہوا ایسی موت پر ہزاروں زندگیاں قربان،یہ حدیث مسلم کے علاوہ احمدوترمذی نے بھی روایت کی ہے۔مناسب یہ تھا کہ مؤلف ان دونوں حدیثوں کے متعلق فرمادیتے رواھما مسلم۔
Flag Counter