| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دنیا میں مؤمن تین قسم کے ہیں ۱؎ ایک وہ جو اﷲ کے رسول پر ایمان لائیں پھر شک نہ کریں۲؎ اور اﷲ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں۳؎ اور وہ جس سے لوگ اپنے مالوں ا ور اپنی جانوں پر امن میں ہوں۴؎ پھر وہ کہ جب وہ طمع کے قریب پہنچے تو اسے اﷲ عزوجل کے لیے چھوڑدے ۵؎(احمد)
شرح
۱؎ قربان جاؤں اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ و سلم کے کہ حضور نے یہاں اقسام نہ فرمایا بلکہ اجزاء فرمایا کیونکہ کل کے اقسام و افراد ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے ہیں مگر کل کے اجزاء ایسے مخلوط ہو تے ہیں کہ ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہوتے جیسے سکنجین کے اجزاء،چونکہ یہ تینوں قسم کے مؤمن دنیا میں شکل و عقل،رنگ ڈھنگ وغیرہ میں ممتاز نہیں سب یکساں معلوم ہوتے ہیں،ظاہر میں یکساں،ضمائر میں فرق اس لیے انہیں اجزاء فرمایا،نیز سب مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں جن میں روح رواں حضور محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں کہ حضور نے سب کو ایک بنادیا،لہذا انہیں اجزاء فرمایا،صلی الله علی سیدنا محمد والہ واصحابہ وبارك وسلم،ہم عجمی گنوار اس عربی سردارکے راز کیا سمجھیں۔شعر فہم رازش چہ کنم من عجمی او عربی لاف مہرش چہ زنم من حبشی او قرشی ۲؎ اﷲ و رسول پر ایمان لاتے ہی سارے ایمانیات کا ذکر آگیا،رب تعالٰی نے بھی فرمایا:"اٰمِنُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اﷲ تعالٰی سے ملا کر بولنا جائز ہے،ثم لانے کی ضرورت نہیں بلکہ اﷲ و رسول کو ملانا ہی جان ایمان ہے۔ دیکھو کتاب اسلام کی چار اصولی اصطلاحیں۔ثم فرما کر یہ بتایا گیا کہ مرتے دم تک مؤمن کو کسی ایمانی چیز میں تردد نہ ہونا چاہیے اعتبار خاتمہ کا ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بدعملی اور گناہ کی عادات عملی تردد وشک ہے،مؤمن کامل وہ ہے جو اعتقادی وعملی دونوں قسموں کے شکوک سے دور رہے۔ ۳؎ جہاد کا ذکر ایمان کے بعد فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ تمام نیک اعمال کا اعتبار ایمان کے بعد ہے،کافر کی کوئی نیکی قبول نہیں،جڑ کٹ جانے پر شاخوں کو پانی دینا بیکار ہے،یہ بھی بتایا گیا کہ جہاد وہ افضل ہے کہ جو ہر قسم کے مال اور جان سے کیا جاوے کہ مجاہد خود بھی میدان میں جاوے اور ہر طرح کا مال بھی وہاں خرچ کرے۔ ۴؎ یعنی دوسری قسم کا مؤمن وہ ہے جو اگرچہ کسی کو نفع نہ پہنچاسکے مگر نقصان بھی نہ پہنچائے مسلمانوں کو اس کی طرف سے امن ہو،ہر شخص یہ سمجھتا ہو کہ اس سے ہم کو نقصان نہ پہنچے گا،الذی واحد فرما کر یہ بتایا کہ ایسے لوگ دنیا میں تھوڑے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ مصرع مرا بجز تو امید نیست برمردماں ۵؎ یعنی تیسرے نمبر کا مؤمن وہ ہے کہ بہت دفعہ اس کے دل میں مال عزت شہرت حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہو اور اس کا دل چاہے کہ دوسروں کی طرح میں بھی ہر جائز ناجائز طریقہ سے یہ چیزیں حاصل کروں مگر پھر وہ اپنے دل کو ان چیزوں سے روکے محض خوفِ خدا کی وجہ سے کہ کہیں رب تعالٰی ناراض نہ ہوجائے، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی"ایسا شخص بھی مجاہد ہے جو ہر وقت اپنے نفس سے جہادکرتا ہے،اسے بری طرف جانے سے روکتا ہے۔