| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو اﷲ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۱؎ اس پر ابوسعید نے تعجب کیا بولے یارسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہ حدیث مجھے دوبارہ فرمایئے ۲؎ حضور نے انہیں دوبارہ یہ بشارت سنائی پھر فرمایا دوسری چیز بھی ہے جس کی برکت سے اﷲ تعالٰی بندے کے سو درجے جنت میں بلند فرماتا ہے۳؎ ہر دو درجوں کے درمیان ایسا فاصلہ ہے جیسا آسمان و زمین کے درمیان عرض کیا یارسول اﷲ وہ کیا ہے فرمایا اﷲ کی راہ میں جہاد اﷲ کی راہ میں جہاد،اﷲ کی راہ میں جہاد۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس جملہ کے معانی بار ہا بیان ہوچکے۔اﷲ تعالٰی سے راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بندہ راضی بہ قضا رہے،نعمتوں میں رب تعالٰی کا شکر کرے،مصیبتوں میں صبر کرے،اسی طرح اسلام کے دین ہونے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی احکام پر راضی دل سے انہیں پسند کرے خواہ سمجھ میں آویں یا نہ آویں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی ہونے پر راضی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضور کے تمام اقوال،افعال،اعمال، احوال سے دلی محبت کرے۔جس چیز کو حضور سے نسبت ہو اسے دل سے محبوب رکھے۔شریعت،طریقت، حقیقت معرفت کو دل سے پسند کرے کیونکہ شریعت حضور انور کے جسم اطہر کے حالات کا نام ہے،طریقت قلب پاک مصطفی کی واردات ہے،یوں ہی حقیقت و معرفت روح پاک سر پاک کی واردات کا نام ہے۔غرضیکہ یہ سب حضور کی ادائیں ہیں ایسے شخص کے لیے دنیا میں ہی جنت واجب ہوچکی کہ جئے گا جنتی ہوکر،مرے گا جنتی ہوکر،اٹھے گا جنتیوں کے زمرہ میں۔مرقات نے فرمایا کہ رب تعالٰی کافرمان:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"دو جنتوں سے مراد دنیا و آخرت کی جنت ہے یعنی رب تعالٰی سے ڈرنے والے کے لیے ایک جنت دنیا میں ہے اور دوسری جنت آخرت میں۔سبحان اﷲ! کیسی پیاری بات ہے۔حضور کی شریعت، اطاعت،محبت دنیا کی جنت ہے۔ ۲؎ یہ تعجب انتہائی خوشی کا تھا اور دوبارہ کہلوانا اس لیے تھا کہ ایسے ہمارے بشارت والے کلمے پھر ایسے بے مثال بشیرونذیر کے لبوں سے بہت لذیذ معلوم ہوئے۔شعر وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے ۳؎ یعنی دوسری خوشخبری اور سنو اور خوش ہو،کیوں نہ خوش ہوں جب رب تعالٰی نے ہم کو ایسے بشیرونذیر کی امت میں بنایا یعنی ایک عمل ایسا بھی ہے جس سے عامل کو جنت کا اوپر والا درجہ ملتا ہے،جو سو درجے بلند ہے،ہر دو درجوں کا اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔ ۴؎ اگرچہ اسلام میں جہاد بھی آگیا تھا مگر چونکہ یہ دوسرے اعمال سے بہت افضل ہے اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے اس لیے اسے خصوصیت سے علیٰحدہ بیان فرمایا یا مطلب یہ ہے کہ جسے جہاد نصیب ہوجائے اسی کے لیے درجے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد اکثر فرض کفایہ ہوتا ہے،مرقات نے اس سے یہ ہی مسئلہ مستنبط فرمایا۔