| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضر ت معاذ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جہاد دو قسم کے ہوتے ہیں ۱؎ جو غازی رضاء الٰہی کی تلاش کرے امیر کی فرمانبرداری کرے اپنی پیاری چیز خرچ کرے ۲؎ ساتھی سے نرمی کرے۳؎ دنگے فساد سے بچے ۴؎ تو اس کا سونا جاگنا سب کا سب ثواب ہے۵؎ اور جوشخص شیخی دکھلاوے شہرت کے لیے جہادکرے اور امیر کی نافرمانی کرے اور زمین پر فساد پھیلائے ۶؎ تو وہ برابری سے بھی نہ لوٹے گا ۷؎(مالک،ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی جنس جہاد اور مطلق جہاد دو قسم کا ہے،جہاد فی سبیل اﷲ کی دو قسمیں نہیں بلکہ وہ خودجنسی جہاد کی ایک قسم ہے یہ ضرور خیال میں رہے۔(مرقات) ۲؎ یہاں امیر سے مراد جہاد کا امیر ہے کمانڈر یا اپنا افسر اور پیاری چیز سے مراد مال اور جان ہے کہ یہ دونوں چیزیں خرچ کرنے پر یتار ہوجائے۔ ۳؎ یعنی دوسرے غازیوں کے ساتھ جو اس کے رفیق سفر ہوں نرم اور اچھا برتاؤ کرے۔ ۴؎ دنگے فساد سے مراد ساتھیوں کے ساتھ مار پیٹ گالی گلوچ ہے جیسا عمومًا جاہل لوگ اپنے رفیق سفر سے کرتے ہیں،بحالت جہاد تو ایسی حرکتیں سخت خطرناک ہیں۔ ۵؎ جاگنا اور جاگنے کے سارے دینی و دنیاوی کام جیسے نماز اورکھانا پینا،کلام کرنا،ہنسنا بولنا،رونا وغیرہ کہ یہ سب عبادت ہی بن جاتے ہیں۔ ۶؎ فساد سے مراد وہ ہی آپس کی لڑائی جھگڑا ہے جو ابھی مذکور ہوا یعنی جوشخص یہ تینوں جرم کرے اس کا یہ حکم ہے۔ ۷؎ یعنی گنہگار ہوکر لوٹے گا کہ ان حرکتوں کے گناہ کا بوجھ سر پر ہوگا اور اس سفر وغیرہ کا ثواب کچھ بھی نہ ملے گا لہذا بجائے نیکی کمانے کے گناہ کماکر لائے گا۔کفاف کے بہت معنی ہیں:بہتر چیز،جو چیز ضرورت سے نہ بچے یعنی بقدر ضرورت چیز،ثواب خیروبھلائی،کفاف کاف کے فتحہ سے بھی ہے اور کسرہ سے بھی،جو کسرہ سے ہے وہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔یہاں مرقات نے ریا پر بہت اچھی بحث کی۔خلاصہ یہ ہے کہ ریا سے اکثر عمل کا ثواب کم ہوجاتا ہے عمل باطل نہیں ہوتا اسی لیے ریا کار پر ریا سے کی ہوئی عبادت کا لوٹانا واجب نہیں اور اگر بعد میں توبہ نصیب ہوجائے تو ان شاءاﷲ وہ کمی بھی پوری ہوجاتی ہے پھر ریا کی بھی دو قسمیں ہیں ریا نفس عمل،یہی کہ اگر لوگ نہ دیکھتے ہوں اور رائے ناموری کی امید نہ ہو تو نیکی کرے ہی نہیں۔دوسرے ریا کمال عمل میں،اگر لوگوں کے دکھاوے کو اچھی طرح نیکی کرے ورنہ معمولی طرح پہلی زیادہ خطرناک ہے دوسری ریا ہلکی۔خیال رہے کہ کوئی شخص ریا کی وجہ سے عمل نہ چھوڑ دے،اخلاص کی دعا کرے اور عمل کرے جاوے کبھی رب تعالٰی اخلاص بھی نصیب کر ہی دے گا،مکھیوں کی وجہ سے کھانا نہ چھوڑے۔