Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
741 - 1040
حدیث نمبر741
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے جہاد کے متعلق خبر دیجئے ۱؎  تو فرمایا اے عبداﷲ ابن عمرو  ۲؎  اگر تم صابر بن کر طلب اجرکرتے ہوئے جہادکرو گے تو اﷲ تعالٰی تم کو صبروالا طالب اجر ہی اٹھائے گا۳؎ اور اگر تم ریاکار اور زیادتی کی ہوس سے جہادکرو گے تو اﷲ تم کو ریا کار ہوس والا اٹھائے گا ۴؎  اے عبداﷲ ابن عمرو جس حال پر جنگ کرو گے یا مارے جاؤ گے تم کو اﷲ اس حال پر اٹھائے گا ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس طرح کہ جہاد کی تفصیل اور تفضیل(فضیلت)بتایئے یا اس کی حقیقت پر مطلع فرمایئے یا جہاد مقبول و نامقبول کے متعلق خبر دیجئے۔جواب شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال تیسری بات کے متعلق تھا کہ جہاد مقبول کون سا ہے اور جہا د مردود کون سا۔

۲؎ حضور انور نے انہیں اس لیے پکارا بغور جواب کو سنیں۔

۳؎ اس حدیث کی بنا پر صوفیاءکرام فرماتے ہیں جس حال جیو گے اسی حال میں مرو گے اور جس حال میں مروگے اسی حال میں اٹھو گے۔(مرقات)زندگی میں اچھا مشغلہ رکھو تاکہ اس مشغلہ میں موت آئے اور اسی حال میں حشر ہو،نمازی آدمی کو نزع و قبر میں بھی نماز ہی یاد آتی ہے جیساکہ بعض روایات میں بھی ہے اور دیکھا بھی گیا کہ اﷲ تعالٰی انجام بخیر کرے۔

۴؎  یعنی اگر تم نام اور مال کی خواہش کے لیے جہاد کرو گے اسی فکر میں مارے جاؤ گے تو قیامت میں اس کی سزا میں گرفتار اٹھوگے لہذا دنیا میں آخرت کی فکر کرو تاکہ آخرت میں بے فکر اٹھو،دنیا کی ناجائز فکر میں نہ ادبال ہو۔

۵؎ جہاد کے علاوہ باقی اعمال کا بھی یہ ہی حال ہے،اﷲ تعالٰی اس فقیر گنہگار کو دینی خدمت کا مشغلہ نصیب کرے،قبول فرمائے،اس میں موت دے اور دین کے خادموں کے زمرے میں حشر نصیب کرے،سنا ہے اچھوں کے ساتھی بھی بخشے جاتے ہیں۔
Flag Counter