۱؎ عرض ع اور ر کے فتحہ سے بمعنی مال ہے تھوڑ ا ہو یا زیادہ اور ر کے سکون سے بمعنی سامان،لہذا روپیہ پیسہ عرض ر کے فتحہ سے ہے مگر عرض نہیں بلکہ وہ عین ہے عرض دنیا سے مراد ہر دنیاوی خیر ہے مال ہو یا عزت یا شہرت یا اجرت۔(مرقات)یعنی جہاد فی سبیل اﷲ میں گیا مگر اس کا مقصد دنیا ہے مال ہو یا متاع یا عزت یا شہرت اﷲ کے لیے وہاں نہ گیا لہذا جواب بالکل برحق ہے۔
۲؎ کیونکہ وہ اس جہاد سے مرضی الٰہی کا طالب نہ تھا،طالب دنیا تھا لہذا ثواب کا مستحق نہیں،لیکن اگر رضائے الٰہی کے لیے جہاد کرے اور خیال یہ بھی ہو کہ رب تعالٰی غنیمت عطا فرمائے تو ان شاءاﷲ ثواب بھی ملے گا۔اگرچہ اس غازی سے کم ملے گا جو غنیمت کی نیت بالکل نہ کرے،بہرحال ثواب کا مدار نیت پر ہے پہلے حدیث گزر چکی کہ غازی اجروثواب اور غنیمت لے کر لوٹتا ہے۔(مرقات)