| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جہاد کا اعلان فرمایا میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی نوکر بھی نہ تھا۲؎ میں نے ایک مزدور ڈھونڈھا جو مجھے کفایت کرے تو میں نے ایک شخص کو پایا جس کے لیے میں نے تین دینار مقرر کیے۳؎ پھر جب مال غنیمت آیا تو میں نے چاہا کہ اس کے لیے اس کا حصہ جاری کردوں۴؎ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے یہ عرض کیا تو فرمایا کہ میں اسے مزدور کے لیے اس جہاد میں دنیا و آخرت میں سوا طے شدہ دیناروں کے اور کچھ نہیں پاتا ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین طائف اور تبوک میں شریک رہے،عہدِ فاروقی میں نجران کے حاکم رہے،جنگ صفین میں حضرت کے ساتھ رہے،اسی میں شہید ہوئے۔(اشعہ) ۲؎ پتہ نہ لگا کہ یہ کون سا غزوہ تھا،بہرحال انہیں جہاد کا شوق تھا مگر بڑھاپے کی وجہ سے انہیں کسی خادم کی ضرورت تھی جو میدان جہاد میں ان کی خدمت کرے۔ ۳؎ کھانے پینے کے علاوہ تین دینار مجھ سے لے لے اور جہاد میں میرے ساتھ چلے وہاں میری خدمت کرے۔ ۴؎ یعنی اسے بھی دوسرے غازیوں کی طرح غنیمت کا حصہ دوں یا دلواؤں اگر پیادہ تھا تو پیادہ غازی کا حصہ اور اگر سوار تھا تو سواری غازی کا حصہ۔ ۵؎ یعنی اسے یہ تین دینار ہی ملیں گے ان کے سوا نہ ثواب ملے نہ غنیمت کا حصہ۔خیال رہے کہ مجاہد کے خدمت گار نوکر کے متعلق علماء میں اختلاف ہے۔بعض نے فرمایا کہ اسے حصہ غنیمت نہ ملے گا جہاد کرے یا نہ کرے صرف طے شدہ مزدوری ملے گی یہ امام اوزاعی،اسحاق کا قول ہے۔امام شافعی کے دو قول ہیں:ایک وہ جو اوپر گزرا کہ اجرت نہ ملے گی،دوسرا قول یہ ہے کہ اجرت ملے گی حصہ غنیمت نہ ملے گا،بعض کے نزدیک اسے اختیار ہوگا کہ غنیمت کا حصہ لے یا اجرت،چوتھا قول یہ ہے کہ اگر اس مزدور نے جنگ کرنے کی شرط نہ لگائی تھی مگر جہاد کیا قتال کیا تو اسے اجرت بھی ملے گی اور غنیمت کا حصہ بھی،احناف کے ہاں اجارہ اور اجر جمع ہو سکتے ہیں۔(مرقات)یہ حدیث بھی امام اعظم کی دلیل ہے کہ جہاد پر اجرت ناجائز نہیں،نہ اس اجرت کا واپس کرنا ضروری ہے۔