Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
733 - 1040
حدیث نمبر733
روایت ہے حضرت ام حرام سے ۱؎  وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا دریا میں چکرانے والا جسے قے آتی ہے اسے ایک شہید کا ثواب ہے ۲؎  اور ڈوب جانے والے کو دو شہیدوں کا ثواب ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ ام حرام بنت ملحان ابن خالد نجاریہ ہیں،ام سلیم کی بہن،حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے ہی گھر میں قیلولہ(دوپہر کا آرام)فرماتے تھے،حضرت عبادہ ابن صامت کی زوجہ  ہیں،حضرت انس کی خالہ،خلافت عثمانیہ میں اپنے خاوند کے ساتھ روم کے جہاد میں شریک ہوئیں اسی میں شہید ہوئیں،قبرص میں قبر شریف ہے،آپ کا نام معلوم نہ ہوسکا۔(مرقات،اشعہ)

۲؎ یعنی جو حج یا عمرہ یا جہاد یا تجارت کے لیے دریا کا سفر کرے اور اس میں چکرائے،قے کرے اگرچہ زندہ نکل جائے جب بھی اسے شہید کا ثواب ہے،ناجائز یا غیرضروری سمندری سفر کا یہ حکم نہیں اور یہ ثواب جب ہے جب کہ سوا سمندری رستہ کے کوئی اور راستہ نہ ہو۔یعنی مجبورًا یہ سفر کرے۔

۳؎ ایک ثواب اس کی مشقت اٹھانے کا دوسرا ثواب ڈوب جانے کا۔
Flag Counter