۱؎ اس میں یا تو خطاب صرف حضرت عبداللہ ابن عمرو سے ہے کہ تم سوا ان تین ضرورتوں کے کبھی سمندر کا سفر نہ کرنا،اگرچہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے سمندر نہیں آتا،خشکی کا راستہ ہی ہے مگر آئندہ کے لیے فرمایا گیا کہ تم کبھی غزوہ میں سمندر پار چلے جاؤ تو وہاں سے حج کے لیے سمندر کا سفر کرسکتے ہو اور یا خطاب ان سارے مسلمانوں سے ہے جو اس زمانہ میں تھے جب کہ سمندری سفر بادبانی کشتیوں پر ہوتا تھا اور سخت خطرناک تھا،مخالف ہوا چلنے کی صورت میں ایک ایک ماہ سمندر میں ایک جگہ ہی ٹھہرنا پڑ جاتا تھا یا پھر جدھر کی ہوا ہوتی ادھر ہی کشتی چل دیتی تھی،ملاحوں کے قابو سے نکل کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی تھی،اب جب کہ سمندری سفر نہایت آسان ہوچکا یہ حکم بھی نہیں رہا،اب اتنی سائنسی سہولتیں ہوچکنے کے بعد بھی بہت حجاج جہاز میں مرجاتے ہیں،بیمار تو بہت ہی ہوجاتے ہیں،خود یہ فقیر بھی ہر دفعہ حج کے موقعہ پر دست و قے دوران سفر وغیرہ میں مبتلا رہا۔غور کرو کہ اس زمانہ میں دریائی سفر کا کیا حال ہوتا ہوگا لہذا یہ فرمان اس وقت کے لحاظ سے نہایت موزوں ہے۔ہوسکتا ہے کہ یہ ممانعت بطور مشورہ ہو،ایک حدیث میں ہے کہ اکیلا مسافر شیطان ہے اور دو مسافر دو شیطان اور تین مسافر قافلہ ہیں،یہ فرمان عالی بھی اس وقت کے لحاظ سے ہے جب راستے پُرخطر تھے۔
۲؎ بعض علماء نے سمندر حائل ہونے کو ترک حج کے لیے عذر قرار دیا ہے۔اس حدیث میں ان کی صحیح تردید ہے کہ جب اس ابتدائی دور میں جب سمندر کا سفر نہایت ہی خطرناک تھا سمندر حج کے وجوب کے لیے عذر نہ ہوا تو اب کیسے ہوسکتا ہے۔یہاں فرمایا گیا کہ حج،عمرہ،جہاد ایسے اہم ہیں کہ ان کی ادائیگی کے لیے سمندر میں بھی سفر کرنا پڑے تو کرو یہ سمندر کی خطرناک لہریں تمہیں ان چیزوں سے روک نہ دیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفاء راشدین نے کبھی سمندر کا سفر نہ کیا،زمانہ عثمانی میں صحابہ کرام نے جہاد کے لیے سمندر پار کیا ہے کہ ام احرام کی ایک روایت میں ہے۔
۳؎ یہ فرمان عالی یا تو اپنے ظاہری معنی پر ہے کہ سمندر میں پانی کے نیچے آگ کا سمندر ہے اور پھر آگ کے سمندر کے نیچے پانی کا اور سمندر ہے دنیا کی وجہ سے ایسی خطرناک جگہ نہ جانا جہاں اوپر تلے تین سمندر ہیں دو پانی کے ایک آگ کا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ"جب سمندر آگ سے بھڑکائے جائیں گے یا تینوں سمندر آگ کے کردیئے جائیں گے،سمندر کا ذکر حاکم کی ایک روایت میں بھی ہے یا اس سفر کی دشواری فرمانے کے لیے یہ کلمہ ارشاد ہوا کہ سمندر گویا آگ و پانی کی مصیبتوں سے گھر اہوا ہے۔(لمعات و اشعہ،مرقات)جب بحری جہاز میں چلتے چلتے آگ لگ جاتی ہے تو وہاں آگ و پانی و سمندر کا اجتماع ہوجانا،کچھ سوار جل کر مرجاتے ہیں کچھ ڈوب کر۔اﷲ کی پناہ!