Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
73 - 1040
حدیث نمبر 73
 روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان نکاحوں کا اعلان کرو ۱؎ اور کرو مسجد میں ۲؎ ان پر دف بجاؤ۳؎(ترمذی) اور یہ فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۴؎
شرح
۱؎ اگر اعلان سے مراد گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا ہے تو یہ حکم وجوبی ہے کیونکہ گواہ نکاح کے لیے شرط ہیں اور اگر اس سے مراد مشہور کرنا دف بجانا ہے تو حکم استحبابی ہے۔(مرقات)

۲؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ جامع مسجد میں تمام نمازیوں کے سامنے ہو تاکہ نکاح کا اعلان بھی ہوجائے اور ساتھ ہی جگہ اور وقت کی برکت بھی حاصل ہو جائے،نیز نکاح عبادت ہے اور عبادت کے لیے عبادت خانہ یعنی مسجدموزوں ہے۔

۳؎ نکاح کے وقت نکاح کی جگہ دف بجانا بہتر ہے لیکن اگر نکاح مسجد میں ہو تو مسجد کے دروازے کے باہر دف بجائی جائے یا خارج مسجد میں نہ کہ داخل مسجد میں لہذا اس حدیث کی وجہ سے مسجدوں میں دف وغیرہ بجانے کی حلت کا قول بالکل درست نہیں۔(مرقات)فقہاء فرماتے ہیں کہ باجوں میں جھانجھ حرام بعینہ ہے کہ کسی طرح جائز نہیں اس کے سوا دوسرے باجے اگر کھیل کود کے لیے ہوں تو حرام، اگر اعلان وغیرہ صحیح مقصد کے لیے ہوں تو حلال۔(از مرقات و فتح القدیر)

۴؎ اس حدیث کی اسناد میں عیسی ابن میمون ہے جو محدثین کے نزدیک ضعیف ہے(اشعہ) مگر صرف اعلان نکاح کی حدیث احمد، ابن حبان،طبرانی فی الکبیر، ابو نعیم فی الحلیہ، حاکم فی المستدرک نے عبداﷲ ابن زبیر سے مرفوعًا نقل فرمائی مسجد میں ہونا دف بجانا یہ غریب ہے مگر بیان استحباب کے لیے کافی ہے۔
Flag Counter