۱؎ اس سے مراد یا وہ لوگ ہیں جن پر جہاد فرض ہو اورنہ وہ جہاد کریں نہ تیاری جہاد کریں نہ ارادہ جہاد،نہ کسی مجاہد کی مالی مدد کریں وہ قیامت میں اس کمال سے محروم ہوں گے جو مجاہدین کو حاصل ہوگا۔یا جہاد سے عام جہاد مراد ہے خواہ کفار سے جہاد ہو یا نفس ناہنجار سے یا شیطان سے یا نافرمان اولاد سے یا گنہگار بے شرم مسلمانوں سے کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی جہاد ہر مسلمانوں کو میسر ہوتا ہے لہذا حدیث کا مطلب واضح ہے اور اس حدیث کی بنا پر نہیں کہا جاسکتا کہ شریعت و طریقت کے چاروں امام،نیز بارہ امام اہل بیت کو جہاد میسر نہ ہوا،وہ بھی ناقص ہونے چاہئیں۔(معاذاﷲ!)