Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
730 - 1040
حدیث نمبر730
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شہید قتل کی تکلیف نہیں پاتا مگر اتنی جتنی کہ کوئی چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف پائے ۱؎(ترمذی،نسائی،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
شرح
۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں شہید سے مراد حقیقی شہید یعنی ظلمًا مقتول خصوصًا جہاد میں کفار کے ہاتھ شہید یعنی شہید کو نزع کی شدت نہیں،نہایت معمولی چسک سی ہوتی ہے اور راہِ خدا میں جان دینے کی جو لذت ہے وہ تو ایسی ہے جو بیان میں نہیں آ سکتی،حتی کہ شہید بارگاہِ الٰہی میں پہنچ کر اس لذت کو حاصل کرنے کے لیے پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں شہید حکمی بھی داخل ہو۔خیال رہے کہ بعض عشاق کو مرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا جمال دکھایا جاتا ہے جس میں وہ ایسے وارفتہ ہوجاتے ہیں کہ انہیں نزع کی شدت محسوس نہیں ہوتی۔دیکھو مصر کی عورتوں نے جمال یوسفی میں محو ہو کر اپنے ہاتھ کاٹ لیے مگر ہائے وائے نہ کی کہ انہیں کچھ تکلیف محسوس نہ ہوئی،جمال محمدی میں محویت کا کیا عالم ہوگا،رب ہی جانے۔جب دہلی میں غازی عبدالرشید کو ایک گستاخ آریہ کے قتل کے عوض پھانسی دی گئی تو اولًا اس نے پھانسی کو چوما پھر جان نکلنے پر آیہ کریمہ "کُلُّ مَنْ عَلَیۡہَا فَانٍ وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَ الْاِکْرَامِ"پڑھی اور ہنستے ہوئے جان خدا کے حوالے کردی۔عاشقوں کے حال نیارے،لہذا حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے اور ایسے مرنے والوں کو مرتے دیکھا بھی گیا ہے۔
Flag Counter