Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
728 - 1040
حدیث نمبر728
روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شہید کی اﷲ کے ہاں چھ خصلتیں(درجے)ہیں ۱؎ پہلی ہی دفعہ میں اسے بخش دیا جاتا ہے۲؎ اور اسے جنت کا ٹھکانا دکھادیا جاتا ہے۳؎ اور اسے قبر کے عذاب سے امان دی جاتی ہے اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۴؎  اور اس کے سر پرعزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہوگا ۵؎  اور بہتر حورعین(آنکھوں والی)سے اس کا نکاح کیا جائے گا ۶؎  اوراس کے ستر اہل قرابت میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۷؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎  کہ یہ چھ خوبیاں کسی اور میں جمع نہیں ہوتیں۔

۲؎ کہ اس کا خون زمین پر پیچھےگرتا ہے اور اس کے تمام گناہوں کی معافی پہلے ہی ہوچکتی ہے۔حتی کہ امام شافعی کے ہاں شہید پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جاتی،وہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ معافی گناہ کے لیے ہوتی ہے اس کی معافی تو پہلے ہی ہوچکی،امام اعظم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ شرافت انسانی کے ظہور کے لیے ہے جس کا شہید زیادہ حقدار ہے نہ کہ معافی گناہ کے لیے ورنہ چھوٹے بچوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر نماز نہ ہوتی۔

۳؎ بعض غازی صحابی نے شہید ہونے سے پہلے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ جنت وہ ہے یارسول اﷲ میں دیکھ رہا ہوں پھر شہید ہوئے،بعض زخمی مجاہدوں نے باوجود پیاس کے جان توڑتے ہوئے پانی قبول نہ کیا فرمایا کہ اب کوثر سامنے ہے،وہاں ہی جاکر پئیں گے جیساکہ احادیث و تواریخ میں وارد ہے۔

۴؎  رب تعا لیٰ فرماتاہے:"یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ"اور فرماتاہے:" لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ"یعنی شہید کو نہ قیامت میں گھبراہٹ ہوگی نہ قبر میں،نہ مرتے وقت،نہ پل صراط پر،نہ موت کو ذبح کردیئے جانے پر۔

۵؎ یعنی اسے عزت کا تاج پہنایا جائے گا جس سے وہ تمام محشر والوں سے ممتاز ہوگا جیسے بادشاہ یا وزیر تاج کی وجہ سے دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔

۶؎ حور بنا ہے حوراء سے بمعنی آنکھ کی تیزسفیدی،پتلیوں کی تیز سیاہی،یہ چیز حسن کا اعلیٰ درجہ ہے۔عین جمع ہے عیناء کی بڑی بڑی آنکھ،چونکہ حوروں کی آنکھیں بڑی اور خوب سفید و سیاہ ہیں اس لیے انہیں حورعین کہا جاتا ہے۔(مرقات)یعنی شہید کو اپنی دنیاوی اور کفار کی مؤمنہ بیویوں کے علاوہ جو اسے کفار کے ورثہ میں ملیں گی بہتر حوریں بیویاں دی جائیں گی۔خیال رہے کہ حور جنس بشر سے نہیں کہ وہ اولاد آدم علیہ السلام نہیں ہیں نورانی مخلوق ہے۔دنیا میں انسان کا نکاح غیرجنس سے درست نہیں،آخرت میں بعد قیامت درست ہوگا،یہ بھی خیال رہے کہ حوروں سے اختلاط بعد قیامت ہوگا،قیامت سے پہلے اگرچہ شہید جنت کے پھل فروٹ کھائیں گے مگر حوروں سے بےتعلق رہیں گے۔

۷؎ یا ستر سے مراد کثرت و زیادتی ہے یا ستر کا عدد،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔اقرباء سے مراد رشتہ دار اور دوست و احباب دونوں ہیں۔(مرقات)بشرطیکہ مسلمان ہوں کافرومشرک کا شفیع کوئی نہیں،جب شہید ستر۷۰ کی شفاعت کرے گا تو خاص علماءواولیاء اﷲ اور پھرحضورصلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا کیا پوچھنا ہے ۔ خیال رہے کہ رب تعالٰی کے عدل کے ظہور کے وقت یعنی اول قیامت صرف حضور ہی شفاعت  فرمائیں گے۔اسے شفاعت کبریٰ کہا جاتا ہے اور پھر ظہور فضل کے وقت شہید وغیرہ شفاعت کریں گے لہذا شفیع المذنبین صرف حضور کا لقب ہے۔
Flag Counter