| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن حبشی سے کہ نبی کریم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے ۱؎ فرمایا دراز قیام۲؎ عرض کیا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا فقیر کی طاقت۳؎ عرض کیا گیا کون سی ہجرت افضل ہے۴؎ فرمایا اس کی جو ان سب چیزوں کو چھوڑ دے جو اﷲ نے اس پر حرام کیں۵؎ عرض کیا گیا کون سا جہاد افضل ہے فرمایا اس کا جو کفار پر اپنے مال و جان سے کرے ۶؎ عرض کیا گیا کہ کون سا قتل اشرف ہے فرمایا جس کا خون بہا دیا جائے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں ۷؎ ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل بہترین ہے، فرمایا وہ ایمان جس میں تردد نہ ہو ۸؎ اور وہ جہاد جس میں خیانت نہ ہو ۹؎ اور پاکیزہ حج،عرض کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے ۱۰؎ فرمایا دراز قیام پھر باقی حدیث میں وہ دونوں متفق ہوگئے ۱۱؎
شرح
۱؎ یعنی نماز کے اعمال میں کون سا عمل افضل ہے۔ ۲؎ بعض لحاظ سے نماز میں دراز قیام افضل ہے کہ اس میں مشقت زیادہ تلاوت قرآن بہت ہے اور بعض لحاظ سے دراز سجدہ افضل ہے کہ اس میں اظہار عجز زیادہ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔بعض علماء نے فرمایا کہ رات کے نوافل تہجد وغیرہ میں لمبا قیام افضل ہے اور دن کے نوافل اشراق چاشت وغیرہ میں زیادہ سجدے افضل ہیں،یہ بہرحال حدیث میں تعارض نہیں اس کی کچھ بحث مرآۃ جلد اول کتاب الایمان میں گزرچکی ہے۔ ۳؎ جھد جیم کے پیش ہ کے سکون سے بمعنی طاقت و قوت اور مقل اقلال سے بنا،بمعنی کم کرنا اور فقیر ہوجانا اس کا مادہ قلل ہے بمعنی کمی اس سے ہے قلت۔ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ غریب آدمی مشقت سے پیسہ کمائے پھر اس میں سے خیرات کرے۔دوسرے یہ کہ فقیر کو خود بھی ضرورت ہو خود مشقت وتکلیف میں ہو اس کے باوجود اپنی ضرورت روک کر خیرات کرے دوسرے کی ضرورت کو مقدم رکھے، مگر یہ دوسرے معنی اس فقیر کے لیے ہوں گے جو خود صابر ہو اور اکیلا ہو بال بچے نہ رکھتا ہو ورنہ آج خیرات کرکے کل خود بھیک مانگنا یوں ہی بال بچوں کے حقوق مارکر خیرات کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ (مرقات)ہاں اگر کسی کے بال بچے بھی حضرت ابوبکر صدیق کے گھر والوں کی طرح صابر ہوں پھر وہ جناب صدیقی کی طرح خیرات کردے تو یہ اس کی خصوصیت ہے،سلطان عشق کے فیصلے عقل سے وراء ہیں۔شعر موسیا آداب دانا دیگراند سوختہ جان در داناں دیگراند ۴؎ بمعنی ہجرت(چھوڑنا)کی بہت سی قسمیں ہیں:وطن چھوڑنا،گناہ چھوڑنا،بُرے خیالات چھوڑنا وغیرہ ان میں سے اعلیٰ درجہ کی ہجرت کون سی ہے۔ ۵؎ سبحان اﷲ! کیسا پیارا جواب ہے گناہ چھوڑنے کی ہجرت وطن چھوڑنے کی ہجرت سے اعلیٰ ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ یہ ترک گناہ کی ہجرت ہمیشہ ہر مسلمان کو میسر آسکتی ہے۔اس کی شرح کتاب الایمان میں گزر چکی۔ ۶؎ یعنی جہاد کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے اعلیٰ قسم کا جہاد یہ ہے کہ مجاہد اپنی جان و مال سب کچھ راہ خدا میں خرچ کرکے جہاد کرے کیونکہ یہ جہاد نفس پر بہت گراں ہے۔خیال رہے کہ یہ افضلیت اضافی ہےایک اعتبار سے اور بعض حالات میں یہ جہاد افضل اور دوسرے اعتبار سے خصوصی حالات میں ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہہ دینی افضل ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا کہ افضل الجھاد کلمۃ حق عندسلطان جائر۔ ۷؎ یعنی راہ خدا کا وہ شہید اعلیٰ درجہ کا شہید ہے جو میدانِ جہاد میں جان و مال سب قربان کردے کہ خود بھی جان دے دے،گھوڑا بھی ہلاک ہوجائے،چونکہ اس کی قربانی دوگنی ہے،نیز اس نے بڑے معرکہ کا جہاد کیا لہذا اس کی شہادت بھی اعلیٰ قرار پائی۔أھریق کی ہ زائدہ ہے اصل میں اریق تھا۔مرقات نے فرمایا کہ گھوڑے کی ہلاکت سے اس کی شجاعت و بہادری کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایسا جانباز اور بہادر تھا کہ بغیر گھوڑے کے پاؤں کٹے دشمن کے قابو میں نہ آیا اس کا ٹھکانہ جنت الفردوس میں ہے۔ ۸؎ ایمان کو عمل میں داخل فرمایا کیونکہ ایمان یقین دل کا نام ہے،یہ دل کا عمل ہے،تردد نہ ہونے کے معنی یہ ہیں رنج و خوشی تنگی و فراخی حال میں اسلام سے نہ پھرے،دنیا کی کوئی حالت اس کے قلب کی حالت نہ بدل سکے۔ایک وقت حضرت حسین حضور کے کندھے پر سوار ہیں اور ایک وقت ظالم قاتل شمر آپ کے سینے پرانوار پر سوار ہے مگر دونوں حال میں قلب کا حال یکساں ہے،اس فرمان کی اور شرحیں بھی کی گئی۔ ۹؎ اسی طرح کہ غنیمت میں خیانت کرے تقسیم سے پہلے امیر کے حوالہ ساری غنیمت کردے،پھر تقسیم میں اسے جو حصہ ملے اسے بخوشی قبول کرے۔ ۱۰؎ حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں گناہ سے بچا جائے یا وہ حج جس میں ریا و نام و نمود سے پرہیز ہو یا وہ حج جس کے بعد حاجی مرتے وقت تک گناہوں سے بچے،حج برباد کرنے والا کوئی عمل نہ کرے۔ خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ حج مقبول وہ ہے جس کے بعد حاجی دنیا میں زاہد آخرت میں راغب رہے،یا حج مبرور وہ ہے جو حاجی کا دل نرم کردےکہ اس کے دل میں سوز،آنکھوں میں تری رہے،حج کرنا آسان ہے حج سنبھالنا مشکل ہے۔ ۱۱؎ خیال رہے کہ افضل اعمال کے بیان میں احادیث مختلف ہیں،کسی حدیث میں کسی عمل کو افضل فرمایا گیا ہے کسی میں دوسرے عمل کو،یہ اختلاف حالات کے لحاظ سے ہوتا ہے کہ کبھی جہاد افضل اور کبھی نماز اعلیٰ پھر نماز میں کبھی زیادہ سجدے افضل اور کبھی دراز قیام بہتر۔