۱؎ یعنی مجھے وہ تین قسم کے آدمی دکھائے گئے جو بعد انبیاء کرام دوسرے جنتیوں سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اس ترجمہ سے تمام اعتراضات اٹھ گئے۔خیال رہے کہ جنت میں سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے جائیں گے،پھر دوسرے انبیاءکرام،پھر سب سے پہلے حضور کی امت جائے گی،پھر دوسری امتیں۔ حضور کی امت میں داخلہ ترتیب سے ہوگا کہ بعض حضرات بعض سے پہلے۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے آگے حضرت بلال ہٹو بچوکرتے جنت میں داخل ہوں گے اور حضور انور کے ساتھ حضرت صدیق اکبر و فاروق داخل ہوں گے مگر یہ داخلہ حضور کی اتباع میں ہوگا،دولہا کے ساتھ اس کے دوست اور خاص خادم بھی نعمتوں سے نوازے جاتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ظاہری آنکھوں سے تاقیامت جنتیوں اور دوزخیوں کو ملاحظہ فرمالیا تھا جیساکہ لفظ عرض سے ظاہر ہے،یہاں اولیت اضافی ہے اور تین سے مراد شخص تین نہیں بلکہ نوعی تین ہیں ان تین میں کروڑوں مسلمان ہوں گے۔
۲؎ عفیف اور متعف میں چند طرح فرق کیا گیا ہے:زنا سے بچنے والا عفیف،بھیک و سوال سے بچنے والا متعفف،اکیلا آدمی گناہ سے بچے وہ عفیف ہے،بال بچوں والا گناہ سے بچے وہ متعفف ہے،ظاہری گناہوں سے بچنے والا عفیف ہے،باطنی گناہوں سے بچنے والا متعفف ہے۔
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ جسے دنیاوی الجھنیں زیادہ ہوں اس کی عبادت افضل ہے اس سے جو فارغ البال ہو، دیکھو انسان کی عبادت فرشتوں کی عبادت سے افضل ہے۔