Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
724 - 1040
حدیث نمبر724
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب ایک گھاٹی پرگزرے جس میں میٹھے پانی کا چھوٹا چشمہ تھا ۱؎  وہ چشمہ انہیں پسند آیا ۲؎  تو بولے کاش میں لوگوں سے علیٰحدہ ہوجاتا تو اس گھاٹی میں ہی قیام کرلیتا۳؎ یہ واقعہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا گیا۴؎  تو فرمایا یہ نہ کرو ۵؎ کیونکہ تم میں سےکسی کا اﷲ کی راہ میں پھرنا اپنے گھر ستر سال تک نمازیں پڑھتے رہنے سے افضل ہے ۶؎  کیا تم نہیں چاہتے اﷲ تمہیں بخشے اور تمہیں جنت میں داخل کرے ۷؎ اﷲ کی راہ میں جہادکرو جو اﷲ کی راہ میں اونٹنی کے دوہنے کے فاصلہ کی برابر جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۸؎(ترمذی)
شرح
۱؎  شعب یعنی گھاٹی پہاڑ کے شگاف کو کہتے ہیں خواہ آر پار ہو یا آگے سے بندعرب میں ایسی جگہ بہت ہی قدر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے جہاں سبزہ بھی ہو اور میٹھے پانی کا چشمہ بھی اور جگہ محفوظ بھی۔

۲؎ دل چاہا کہ مدینہ منورہ چھوڑ کر اپنی بکریاں بھیڑیں لے کر یہاں آن بسیں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

۳؎ تاکہ اطمینان سے عبادت الٰہی کرتا اور لوگوں کے اختلاط سے بچ جاتا،یہ اختلاط ہزار ہا غفلتوں گناہوں کا سبب ہے ان کا یہ ارادہ بھی نیت خیر سے تھا۔

۴؎ یا تو فذکر معروف ہے تو اس کا فاعل خود وہ صحابی ہیں جن کا یہ ارادہ تھا یا مجہول ہے تو ذکر کرنے والے کوئی اور صحابی ہیں یعنی خود انہوں نے یہ ارادہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا یا حضور سے عرض کیا گیا دونوں روایتیں ہیں۔

۵؎ یعنی نفلی عبادت کے لیے فرض و واجب عبادات نہ چھوڑو کہ یہاں رہ کر تم نماز جماعتوں،جمعہ،عیدین اور جہاد،تبلیغ وغیرہ عبادات سے محروم ہوجاؤ گے۔اس سے معلوم ہوا کہ جو نفلی عبادات فرائض چھوڑا دے وہ گناہ ہے،اگر نماز تہجد سے فرض کی نماز قضا یا جماعت ترک ہوجاوے تو تہجد نہ پڑھو۔پنجگانہ نماز جماعت سے پڑھو۔ یہ بڑا اصولی مسئلہ ہے یاد رکھنا چاہیے،بعض لوگ عام جلسوں جلوسوں کی وجہ سے رات کو زیادہ جاگتے ہیں جس سے فجر کی جماعت نہیں پاتے وہ اس سے عبرت پکڑیں۔

۶؎  یعنی تمہارا شہر مدینہ میں رہنا جہاں جہاد بھی نصیب ہوتا رہے اور حضور پرنور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت آپ کے پیچھے نمازیں میسر ہوگی،یہاں جنگل میں گھر بنا کر بیٹھنے سے بہت ہی زیادہ افضل ہے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ شاید وہ صحابی فرضی جہاد سے فارغ ہوچکے ہوں گے اور اس زمانہ میں فی الحال جہاد فرض عین نہ ہوگا اس لیے افضل فرمایا،ورنہ حضور سخت منع فرماتے۔اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ بمقابلہ دیہات کے شہر میں رہنا بہتر ہے کہ شہر میں بعض وہ عبادات نصیب ہوجاتی ہیں جو گاؤں میں میسر نہیں ہوتیں،ستر سال فرمانا بہت زیادہ کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا کہ صف جہاد یا صف نماز میں کھڑا ہونا اﷲ کے نزدیک ستر سال کی عبادت سے افضل ہے۔(حاکم،مرقات)

۷؎ یعنی تم کو مغفرت تامہ اور جنت کا اولی داخلہ نصیب فرمادے۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ خلوت کی زندگی جلوت کی زندگی سے بہتر گوشہ کمال نہیں۔خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں جن احادیث میں گوشہ نشینی کو افضل فرمایا گیا وہاں فتنوں کے زمانہ کی گوشہ نشینی مرادہے۔(لمعات و اشعہ)

۸؎  فواق  فاقہ کی تفسیر ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ اس سے مرادیا صبح شام کا دوہنے کا فاصلہ ہے یا ایک بار دوہنے میں جو کچھ فاصلہ کیا جاتا ہے وہ مراد ہے،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
Flag Counter