۱؎ یعنی دو قسم کی آنکھیں یہ شبہ شخصی نہیں بلکہ نوعی ہے۔خیال رہے کہ جب اس آنکھ کو دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی تو آنکھ والے کو بھی نہ چھوئے گی،یہ مطلب نہیں کہ صرف آنکھ تو آگ سے بچی رہے باقی جسم آگ میں جائے،اگر ایک عضو بخشا جاوے تو اس کے صدقہ سے سارے اعضاء بخشے جائیں گے۔مصنفین علماء دین کی اگر انگلیاں بخش دی گئیں تو ان شاءاﷲ سارا جسم بخش دیا جائے گا۔
۲؎ اسی طرح جو آنکھ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم میں روئے ان شاءاﷲ بخشی جائے گی،دو نعمتیں بڑی شاندار ہیں خوف خدا عشق مصطفی۔شعر
ذرہ عشق نبی از حق طلب سوز صدیق و علی از حق طلب
۳؎ اسی طرح کہ سفر جہاد کا غازی سو جاوے،یہ بندہ ان کا پہرہ دے تاکہ کفار شب خون نہ مار سکیں یہ رات جاگ کر گزارے۔