Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
722 - 1040
حدیث نمبر722
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ وہ شخص آگ میں داخل نہ ہوگا جو اﷲ کے خوف سے روئے حتی کہ دودھ تھن میں لوٹ جائے ۱؎  اورکسی بندے پر راہ خدا کا غبار۲؎  اور دوزخ کا دھواں جمع نہیں ہوسکتا ۳؎ ترمذی اور نسائی نے آخری جملہ میں یہ زیادتی کی کہ مسلمان کے نتھنوں میں کبھی۴؎ اور اس کی دوسری روایت میں یہ کہ کسی بندے کے پیٹ میں کبھی ۵؎ اورکسی بندے کے دل میں کبھی بخل اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے ۶؎
شرح
۱؎  یعنی جیسے دوہے ہوئے دودھ کا تھن میں واپس ہونا ناممکن ہے ایسے ہی اس شخص کا دوزخ میں جانا ناممکن ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الْخِیَاطِ"۔خوف خدا میں رونے کے بڑے فضائل ہیں اﷲ تعالٰی نصیب فرمادے۔

باش چوں دولاب دائم چشم تر		تادرون صحن تو روید خضر

۲؎ راہ خدا کا غبار وہ غبار ہے جو رب کی رضا کے لیے راستہ چلا جائے اور وہاں کا غبار بدن یا کپڑوں یا پاؤں یا چہرے پر پڑے جیسے مسجد کو جاتے طلب علم،جہاد حج وعمرہ وغیرہ کرنے کی حالت میں جوگردوغبار پڑے۔

۳؎ یعنی جیسے دو ضدیں جمع نہیں ہوسکتیں ایسے ہی ایک جگہ یہ دو چیزیں جمع نہیں ہوسکتیں،رب تعالٰی نے اس غبار اور دوزخ کے دھوئیں کو نقیضیں یا ضدیں بنادیا ہے یہ اس کی بندہ نوازی ہے۔

۴؎  چونکہ ناک کے نتھنے پیٹ اور دماغ کے دروازے ہیں کہ انہیں کے ذریعہ ہوا اندر باہر آتی جاتی ہے،اگر ان میں راہِ خدا کا غبار پڑے تو یقینًا سانس کے ساتھ پیٹ اور دماغ میں بھی پہنچے گا اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا گیا۔خیال رہے کہ لفظ منخر میم اور خ کے فتح سے بھی ہے اور دونوں کے پیش سے بھی اور میم کے فتحہ اور خ کے کسرہ سے بھی،بروزن مجلس اور میم کے کسرہ خ کے فتحہ سے بھی بہت لغات میں بمعنی ناک کا نتھنا۔

۵؎ یعنی جس مؤمن کے پیٹ میں سانس کے ذریعہ راہ خدا کا غبار پہنچ جائے وہاں دوزخ کا دھواں نہ پہنچے یعنی وہ دوزخ میں تو کیا دوزخ کے قریب بھی نہ جائے گا جہاں دوزخ کی آگ کا دھواں پہنچتا ہے۔خیال رہے کہ دوزخ میں کہیں آگ بغیر دھوئیں کی ہے جیسے دنیا میں ویلڈنگ کی آگ اور کہیں دھوئیں والی ہے،لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض روایات میں ہے کہ دوزخ کی آگ بغیر دھوئیں کے ہے پھر وہاں دھواں کیسا ؟

۶؎  شح اس بخل و کنجوسی کو کہتے ہیں جو مالی عبادات سے انسان کو روک دے یا ظلم کرادے۔ایمان سے مراد کامل ایمان ہے یعنی کامل مؤمن کبھی بخیل و کنجوس نہیں ہوتا اور کنجوس آدمی کبھی کامل مؤمن نہیں بن سکتا بلکہ کبھی بخل ایمان سے بھی روک دیتا ہے۔قارون کے بخل نے اسے کافر بنادیا،بخل اور شح میں عام خاص مطلق کی نسبت ہے کہ ہر شح بخل ہے مگر ہر بخل شح نہیں۔شح خدا تعالٰی کا عذاب ہے۔خیال رہے کہ عربی میں دل کو قلب کہتے ہیں،قلب کے معنی ہیں الٹنا پلٹنا،چونکہ دل کبھی روح کی طرف ہوجاتا ہے جس سے اس پر نورانی تجلیاں پڑتی ہیں اور کبھی نفس کی طرف جس سے اس پر نفسانی تاریکیاں آجاتی ہیں،گویا دل وہ بیٹھک ہے جس کے دو دروازے ہیں ایک یار کی طرف(درون خانہ)دوسرا غیار کی طرف یار والا دروازہ کھل جاوے تو خلوت خانہ ہوجاتا ہے،ورنہ جلوت خانہ اس لیے اسے قلب کہتے۔(از مرقات مع الزیادۃ)اس لیے حضور دعا مانگتے تھے کہ اے دلوں کے بدلنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ جیسے صاف آئینہ میں سارا گھر اور گھر والا نظر آتا ہے یوں ہی صاف شفاف دل میں عرش و فرش جنت و دوزخ مخلوق و خالق کی تجلی نظر آتی ہے۔

در دل مؤمن بگنجم اے عجب	گر تومے جوئی دریں دلہا طلب
Flag Counter