۱؎ آپ خریم ابن احزم ابن شداد ابن عمرو ابن فاتک ہیں ۔غزوہ بدر میں اپنے بھائی سبرہ کے ساتھ شریک ہوئے یہ ہی قوی ہے،بعض مؤرخین نے کہا کہ آپ فتح مکہ کے دن اپنے بیٹے ایمن ابن حزیم کے ساتھ ایمان لائے مگر یہ درست نہیں،آخر میں شام میں قیام رہا۔(کمال،اشعہ)
۲؎ اﷲ کی راہ میں خرچ سے مراد ہر دینی کام میں خرچ ہے جہاد ہو یا حج یا طلباء و علماء کی خدمت،زکوۃ، فطرہ، قربانی اور تمام نفلی صدقات کہ ان کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہے۔اس حدیث کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے "مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ"الخ ثواب کے یہ مختلف درجے اخلاص کے درجوں کے لحاظ سے ہیں اور جہاں خرچ کیا اس کی اہمیت کے اعتبار سےبھی،اس کے خروج سے جتنا دین کو فائدہ ہوگا اتنا ہی ثواب زیادہ۔