Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
719 - 1040
حدیث نمبر719
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اﷲ کی راہ میں اونٹنی دوہنے کے وقفہ کی برابر جہاد کرے ۱؎ تو یقینًا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۲؎  اور جو اﷲ کی راہ میں معمولی زخمی کیا جائے یا معمولی تکلیف دیا جائے۳؎  تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ چمکدار ہوگا جیسا کہ تھا۴؎  اس کا رنگ زعفرانی ہوگا ۵؎  اس کی خوشبو مشک کی سی اور جسے اﷲ کی راہ میں پھنسی نکل آوے ۶؎ تو یقینًا اس پر شہیدوں کی مہر ہوگی ۷؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎  عربی میں فواق جانور کو دوبارہ دوہنے کے درمیان وقفہ کو کہتے ہیں،اس وقفہ سے مرا دیا تو صبح شام دوہنے کے درمیان کا فاصلہ ہے یا ایک دفعہ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہے کیونکہ اونٹنی کو کچھ دوہ کر تھوڑا ٹھہرجاتے ہیں،اتنے میں وہ پھر دودھ اتارلیتی ہے تو اسے پھر دوہتے ہیں،یہ ٹھہرنا فواق کہلاتا ہے یہ چند منٹ کا ہی ہوتا ہے۔فواق بنا ہے فوق سے بمعنی اوپر،چونکہ دودھ اوپر سے ہی تھن میں آتا ہے اس لیے اسے فواق کہا جاتا ہے۔(مرقات واشعہ)

۲؎ یعنی رب تعالٰی نے اپنے ذمہ کرم پر لازم فرمالیا کہ اسے اول ہی سے جنت میں داخل فرمائے گا گناہوں کی سزا کے لیے اسے دوزخ میں نہ رکھے گا کیونکہ اس کے گناہ اس جہاد کی برکت سے معاف ہوچکے،جب پل بھر کے جہاد کا یہ درجہ ہے تو غورکرو کہ جو ہمیشہ جہاد میں رہے اس کا مرتبہ کیا ہوگا۔

۳؎ لغت میں نکبۃ معمولی حادثہ یا تکلیف کو کہتے ہیں زخم ہو یا اور کوئی تکلیف،یہاں جراحت سے مراد وہ زخم ہے جو کفار کے ہاتھوں غازی کوپہنچے اور نکبت سے مراد وہ زخم ہے جو گھوڑے سے گر جانے یا اپنا ہتھیار لگ جانے سے غازی کو پہنچے۔مرقات نے اس کو ترجیح دی جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی انگلی پاک میں ایک دفعہ خون نکل آیا تھا تو فرمایا تھا۔شعر

ھل انت الا اصبع و دعیت		وفی سبیل اﷲ ما نقیت

۴؎  یعنی تازہ زخم جتنا سرخ تھا اس سے زیادہ سرخ ہوگا۔حق یہ ہے کہ انھا کی ضمیر صرف نکبۃ کی طرف ہے۔مقصد یہ ہے کہ جب جہاد میں اتفافی لگی ہوئی چوٹ کا یہ درجہ ہے تو کفار کے ہاتھوں لگے ہوئے زخم یا قتل کا کیا مرتبہ ہوگا،بعض شارحین نے فرمایا کاغزر کا کاف زائدہ ہے۔

۵؎ اس طرح کہ زخم کی سرخی میں زعفرانی زردی جھلکتی ہوگی جس سے اس کا حسن زیادہ ہوگا اور اس کی خوشبو سے وہ میدان مہکتا ہوگا جہاں جہاں یہ غازی کھڑا ہوگا۔یہ قیامت میں ہوگا اس علامت سے غازی پہنچانا جائے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔

۶؎  خراج  خ کے پیش سے جسم میں سے ابھر آنے والی چیز جسے اپھارہ کہا جاتا ہے جیسے پھڑیا پھنسی آبلہ وغیرہ یعنی اگر غازی کے جسم پر میدان جہاد میں کوئی قدرتی پھڑیا پھنسی نکل آوے نہ کسی کافر کی طرف سے چوٹ لگی ہو نہ کسی اور وجہ سے۔

۷؎  طابع بنا ہے طبع سے بمعنی چھپنا مہر لگنا"طَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ"۔مطلب یہ ہے کہ قدرتی پھڑیا پھنسی بھی اگر غازی کو نکل آئے تو اس پر شہید کی نشانی ہوگی،اسے شہیدوں کے زمرہ میں داخل کیا جاوے گا، ان کا سا احترام ہوگا کیونکہ اس نے اﷲ کی راہ میں کوشش تو کی ہے۔
Flag Counter