Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
718 - 1040
حدیث نمبر718
روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎  وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ہر میت کا خاتمہ اپنے اعمال پر ہوجاتا ہے ۲؎  سوا  اس کے جو خدا کی راہ میں مرابط ہوکر مرے ۳؎ کہ اس کے عمل قیامت تک اس کے لیے بڑھتے رہتے ہیں۴؎  اور قبر کے فتنہ سے وہ امن میں رہتا ہے ۵؎(ترمذی،ابوداؤد)  دارمی،بروایت،عقبہ بن عامر۔
شرح
۱؎  آپ انصاری صحابی ہیں،غزوہ احد اور بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،خیبر کی فتح میں شامل تھے،حضور کے بعد دمشق میں رہے وہاں امیر معاویہ کی طرف سے دمشق کے گورنر رہے،امیر معاویہ کے زمانہ میں ۵۳ھ؁ میں دمشق میں ہی وفات پائی،وہاں ہی دفن ہوئے۔(اشعہ)

۲؎ یعنی آخر حیات میں جو نیک و بدعمل کرتا تھا اس پر مرجاتا ہے اور مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں کہ فاعل کی موت افعال کو ختم کر دیتی ہے۔

۳؎ یعنی اسلامی ملک کی سرحد پر جہاد پر تیار رہا اور وہاں ہی فوت ہوگیا،مرابط کے معنی پہلے بیان ہوچکے ہیں،یہ ربط بمعنی باندھنے سے بنا۔مرابط وہ جو اپنے کو کفار کے مقابل باندھ دے،اپنے ہاں جہاد کے لیے گھوڑا باندھے۔

۴؎ اس طرح کہ قیامت تک اسے ہر گھڑی وہ ہی ثواب ملتا رہتا ہے جو زندگی میں ملتا تھا اس کا رباط فی سبیل اﷲ صدقہ جاریہ ہوجاتا ہے کیونکہ مسلمان اس کے رباط سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔

۵؎  اس طرح کہ اس سے نہ حساب قبر ہو نہ اسے عذاب قبر ہو،بقیہ صدقات جاریہ میں یہ انعام نہیں ملتا یہ صرف مرابط کو ملتا ہے۔
Flag Counter