۱؎ یعنی مسلمانوں میں اسلامی سلام کا رواج ڈالو،اگر مسلمان کفار کی صحبت کی وجہ سے آداب عرض یا گڈ مارننگ وغیرہ کہنے کے عادی ہوگئے ہوں تو ان سے یہ بری عادت چھڑواؤ۔یا ہر واقف ناواقف مسلمان کو سلام کرو یا بلند آواز سے سلام کہو تاکہ سامنے والا سن لے اور جواب سلام دے پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔خیال رہے کہ سلام کرنا سنت ہے جواب دینا فرض،سلام کے مسائل ان شاء اﷲ باب السلام میں عرض ہوں گے۔
۲؎ حسب موقعہ عزیزوں اور نیک لوگوں کی دعوت کرو اور عمومًا بھوکوں محتاجوں کا پیٹ بھرو کہ یہ اسلام کا شعار ہے۔
۳؎ یعنی جہاد میں حربی کافروں کو قتل کرو۔ھام جمع ہے ھامۃ کی بمعنی کھوپڑی۔خلاصہ یہ ہے کہ سخاوت شجاعت دونوں کے جامع بن جاؤ۔
۴؎ یعنی یہ اعمال جنت ملنے کا ذریعہ ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ جنت حاصل کرنے کے لیے مجاہدہ اور مشقت کی ضرورت ہے جو مسلمان ایسے مجاہدے کرلے گا وہ آسان کام بخوبی کرسکے گا جیسے نماز روزہ حج وغیرہ لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس میں نماز روزہ حج کا ذکر نہیں،چونکہ ہر جنتی جنت میں اپنی جگہ بھی لے گا اور کافر کے حصے پر بھی قبضہ کرلے گا اس لیے وراثت فرمایا گیا اور چونکہ جنتیں بہت سی ہیں اس لیے جمع ارشاد ہوا۔