| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے ۱؎ مدینہ منورہ سے قریب ہوئے تو فرمایا کہ مدینہ میں کچھ ایسی قومیں بھی ہیں ۲؎ کہ تم چلے اورتم نے کوئی جنگل طے نہ کیا مگر وہ تمہارے ساتھ تھے۳؎ ایک روایت میں یوں ہے کہ مگر وہ ثواب میں وہ تمہارے شریک ۴؎ لوگوں نے کہا یارسول اﷲ وہ رہے مدینہ ہی میں فرمایا وہ رہے مدینہ ہی میں جن کو معذوری نے روک لیا ۵؎ (بخاری)اور مسلم نے روایت کیا حضرت جابر سے۔
شرح
۱؎ تبوک مدینہ منورہ سے چھ سو ساٹھ میل دور جانب شام ہے اس طرح کہ ایک سو ساٹھ میل خیبر ہے اور خیبر سے پانچ سو میل تبوک سے کچھ فاصلہ پرمان ہے پھر مان کے بعد عمان ہے اردن کا دارالخلافہ،فقیر نے خیبر کی تو باقاعدہ زیارت کی ہے مگر تبوک اور مان پر ہوائی جہاز سے پرواز کی ہے عمان اور بیت المقدس جاتے ہوئے،غزوہ تبوک حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری غزوہ ہے۔جیساکہ اشعہ نے فرمایا۔ ۲؎ یعنی مختلف جماعتوں و قبیلوں کے مسلمان وہ بھی ہیں جو اس غزوہ میں جانے کی دل سے تمنا کرتے تھے مگر کسی سخت مجبوری کی وجہ سے نہ جاسکے۔ ۳؎ اس طرح کہ جسم ان کے مدینہ میں رہے اوردل تمہارے ساتھ جہاد میں رہے،نیز ان کی نیت ان کے ارادے تمہارے ساتھ رہے یا وہ اجروثواب میں تمہارے ساتھ رہے کہ تمہارے پیچھے تمہارے گھر بار کی دیکھ بھال اور تمہارے بال بچوں کی خدمت کرتے رہے۔ ۴؎ اس طرح کہ نفس ثواب میں تمہارے ساتھ شریک رہے اگرچہ عملی جہاد میں تم ان سے بڑھ گئے۔اس وجہ سے غنیمت میں ان کا حصہ نہ ہوگا،رب فرماتاہے:" وَفَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الْقٰعِدِیۡنَ اَجْرًا عَظِیۡمًا دَرَجٰتٍ مِّنْہُ وَمَغْفِرَۃً وَّرَحْمَۃً"۔اس سے معلوم ہوا کہ نیت خیر کا بڑا درجہ ہے،اس طرح کسی نیکی سے رہ جانے پر افسوس کرنا بھی ثواب ہے۔ ۵؎ معذوری سے مراد واقعی معذوری ہے،جو بعض مخلص صحابہ کو تھی،بناوٹی معذوری نہیں جو بہانہ باز منافقین نے ظاہر کی تھی ان پر تو سخت عتاب فرمایا گیا دیکھو سورۂ توبہ۔