| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ ایک شخص غنیمت کے لیے جہاد کرتا ہے ۱؎ اور ایک شخص اپنی شہرت چرچے کے لیے ۲؎ اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کا درجہ دیکھا جاوے ۳؎تو اﷲ کی راہ میں مجاہد کون ہے فرمایا وہ ہے جو صرف اس لیے جہاد کرے کہ اﷲ تعالٰی کا کلمہ بلند ہوجائے۴؎ وہ اﷲ کی راہ میں مجاہد ہے۔(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی صرف مال غنیمت حاصل کرنے یا ملک جیتنے اور وہاں راج کرنے کی نیت سے جہاد کرتا ہے،رضاءالٰہی کی نیت نہیں کرتا جیسا کہ آج کل عمومًا جنگ کے وقت ملک وقوم کی خدمت کا نام لیتے ہیں،اﷲ کے دین کی خدمت کا ذکر تک نہیں کرتے اس لیے بچنا چاہیے۔ ۲؎ یعنی صرف اس لیے جہاد کرتا ہے کہ لوگوں میں اس کی بہادری کا چرچا ہو اور اسے شہرت و عزت حاصل ہو،کفار کو اپنی شجاعت دکھانا ان کے مقابل اپنی شان و بہادری بیان کرنا عبادت ہے۔ ۳؎ لیری کی تین قرأتیں ہیں:باب فتح کا مضارع مجہول،باب افعال کا مضارع معروف اور باب فتح کا مضارع معروف یعنی تاکہ اس کا درجہ دیکھا جاوے یا لوگوں کو اپنا درجہ شجاعت دکھائے مسلمانوں کو یا تاکہ وہ اپنی جنت کی جگہ دیکھ لے یعنی صرف جنت حاصل کرنے کے لیے جہاد کرتا ہے۔(مرقات و اشعہ) تیسرے معنی صوفیانہ ہیں۔صوفیاء کے نزدیک جنت حاصل کرنے یا دوزخ سے بچنے کے لیے بھی عبادت نہ کی جائے،صرف جنت والے رب کو راضی کرنے کے لیے عبادت کرنی چاہیے،جب وہ راضی ہوگیا تو سب کچھ مل جائے گا۔ ۴؎ کلمۃ اﷲ سے مراد کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ ہے یعنی اسلام کی اشاعت کرنے اور کفر کا زور توڑنے کے لیے جہاد ہو۔خیال رہے کہ خدمت دین کے ساتھ غنیمت کی نیت بھی ہونا مضر نہیں مگر کمال اس میں ہے کہ خالص خدمت دین کی نیت ہو غنیمت بلکہ جنت حاصل کرنے کا بھی ارادہ نہ ہو۔