Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
712 - 1040
حدیث نمبر712
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی تو فرمایا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں عرض کیا ہاں ۱؎ فرمایا تو انہیں ہی میں جہاد کر ۲؎(مسلم،بخاری) اور ایک روایت یہ ہے کہ اپنے ماں باپ کی طرف لوٹ جا ان سے اچھا برتاؤ کر ۳؎
شرح
۱؎ غالب یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی،وہ اکیلا بیٹا خدمت گار تھا اور جہاد اس وقت فرض عین نہ تھا فرض کفایہ تھا،ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے،اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے۔

۲؎ یہاں جہاد سے مراد لغوی جہاد ہے بمعنی مجاہدہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا"اس سے مراد ہے جہادبالنفس۔

۳؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی جہاد کے لیے بغیر والدین کی اجازت کے نہیں جانا چاہیے،اگر جہاد فرض ہو تو بہتر ہے کہ ان سے اجازت لے لے لیکن اگر وہ اجازت نہ دیں تو بھی چلا جاوے،اگر وہ منع کریں گے تو وہ گنہگار ہوں گے یہ حکم مؤمن والدین کے لیے ہے،کافر ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں خواہ جہاد فرض ہو یا یا نفل۔خیال رہے کہ مسلمان ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی نفلی عبادت کے لیے نہ جاوے جیسے نفلی حج،نفلی عمرہ،زیارت وغیرہ حتی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں نفلی روزہ بھی نہ رکھے۔چنانچہ ابوداؤد نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے روایت کی کہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا بولا میں ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں والدین روتے رہ گئے ہیں فرمایا واپس جاؤ جیسے انہیں رُلا کر آئے ویسے ہی انہیں ہنساؤ،اسی ابوداؤد نے بروایت حضرت ابوسعید خدری روایت کی ہے کہ یمن سے ایک شخص ہجرت کرنے مدینہ منورہ حاضر ہوا اس سے حضور نے پوچھا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں عرض کیا ہاں،فرمایا تو ان سے پوچھ کر آیا ہے بولا نہیں،فرمایا واپس جاؤ،اجازت لے کر آؤ،اگر اجازت نہ دیں تو ان کی خدمت کرو۔(مرقات)
Flag Counter