Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
709 - 1040
حدیث نمبر709
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو مرجائے اور نہ تو جہاد کرے ۱؎ ا ور نہ اپنے دل میں اس کا خیال کرے ۲؎ تو نفاق کے حصے پر مرے گا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یا اس طرح کہ اس کی زندگی میں جہاد ہوا ہی نہیں یا اس طرح کہ جہاد تو ہو مگر یہ شریک نہ ہو یا نہ ہوسکے غرضیکہ اس فرمان عالی کی کئی صورتیں ہیں۔

۲؎ نفسہ سے پہلے فی پوشیدہ ہے اور خیال کرنے سے مراد یا جہاد کی تمنا کرنا ہے یا تیاری جہاد کرنا ہے پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں نیکی کی تمنا بھی باعث ثواب ہے گناہ کی تمنا بھی گناہ۔

۳؎ یعنی ایسا آدمی منافق سے مشابہ ہوگا جو جہاد سے بہت بچتے تھے اور جو کسی قوم سے مشابہت رکھے وہ اسی قوم سے شمار ہوتا ہے۔حضرت عبداﷲ ابن مبارک وغیرہ محدثین نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں جہاد سے بے گانہ رہنا منافقین کی علامت۔(مرقات و نووی) جیسے حدیث پاک میں ہے"من ترك الصلوۃ متعمدًا فقد کفر"جو دانستہ طور پر نماز چھوڑے کافر ہے،یہ بھی اسی زمانہ پاک کے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں بے نمازی ہونا کفار کا نشان تھا،فرماتے ہیں کہ مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نماز ہے،بعض محدثین فرماتے ہیں کہ یہ حکم ہر زمانہ کے متعلق ہے۔مطلب یہ ہے کہ جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لانا نفاق پیدا کرتا ہے۔(مرقات) جیسے ارشاد ہوا کہ گانا بجانا بلکہ گانے کی آواز رغبت سے سننا دلی نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کا سیل گھاس کو۔اسی حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد فرض عین ہے مگر حق یہ ہے کہ بعض حالات میں فرض  عین ہوتا ہے اکثر حالات میں فرض کفایہ۔
Flag Counter