۱؎ بال کے لغوی معنی ہیں دل، خیال،توجہ،اصطلاح میں اس کے معنی ہیں شان،اچھا،انجام، حال،شریف،چونکہ ایسے کام کی طرف دل متوجہ ہوتا ہے اس لیے اسے بال کہتے ہیں یہ قید لگا کر مکروہ ممنوع کاموں کو نکال دیا لہذا حقہ پیتے وقت بسم اﷲ اور پی کر الحمدﷲ پڑھنا مکروہ ہے یوں ہی شراب جوئے زنا پر یہ پڑھنا حرام ہے بلکہ اندیشہ کفر ہے یوں ہی جھوٹ و غیبت وغیرہ پر یہ پڑھنا سخت ممنوع ہے۔
۲؎ اقطع کے معنی ہیں مقطوع البرکۃ یعنی ناقص ناتمام بعض روایت میں ہے فھو جذم اس کے معنی بھی یہ ہی ہیں۔نووی نے شرح مسلم میں فرمایا کہ ہم نے اپنی کتاب اربعین میں یہ حدیث بروایت عبدالقادر زہاد عن کعب ابن مالک،باسناد حسن نقل کی ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور نسائی نے اپنی کتاب عمل الیوم واللیلۃ میں روایت کی، بہرحال یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے۔(اشعہ)