| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر وہ خطبہ جس میں کلمہ شہادت نہ ہو وہ کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔
شرح
۱؎ جذماء یا تو جذم سے بنا بمعنی کٹ جانا یا جذام سے بمعنی کوڑھ یہاں دونوں معنی درست ہیں یعنی جو خطبہ شہادت توحید و رسالت سے خالی ہو وہ کٹے ہو ئے یا کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے کہ بظاہر ہاتھ معلوم ہوتا ہے مگر ہاتھ والے کو فائدہ مند نہیں ایسے ہی ایسے خطبہ میں الفاظ تو سننے میں آتے ہیں مگر نہ وہ عنداﷲ قبول ہے نہ اس پر ثواب نہ اس میں برکات۔معلوم ہوا کہ کلمہ شہادت بڑا ہی فائدہ مند عمل ہے یہ مسلمان کا زندگی و موت کا وظیفہ ہے۔