Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
708 - 1040
حدیث نمبر708
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں ہے غازیوں کا کوئی چھوٹا بڑا لشکر ۱؎ جو جہاد کرے تو غنیمت پالے اور سلامت رہے مگر وہ اپنے ثواب کے دو تہائی حصے فورًا حاصل کرلیتے ہیں ۲؎ اور نہیں ہے کوئی غازیوں کی چھوٹی بڑی فوج جو ناکام رہے اور تکلیف دی جائے ۳؎ مگر ان کے ثواب پورے ہوجاتے ہیں ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ چار سوغازیوں تک کا لشکر سریہ کہلاتا ہے اس سے بڑا لشکر فوج،نیز جس جہاد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم شرکت نہ فرماویں وہ سریہ ہے اور جس میں حضور بنفس نفیس شرکت فرمادیں وہ غزوہ۔(مرقات و اشعہ) یعنی آئندہ حکم ہر چھوٹے بڑے لشکر کے لیے ہے۔

۲؎ کیونکہ جہاد میں رب کی طرف سے تین نعمتیں ملتی ہیں،سلامتی ،غنیمت،ثواب و اجر پہلی دو نعمتیں دنیا میں اور آخری نعمت ثواب و اجر آخرت میں۔

۳؎  یخفق بنا ہے خفق سے بمعنی مجاہد کا بغیر غنیمت ہونا یا شکاری کا بغیر شکار واپس لوٹنا،تکلیف سے مراد زخم و شہادت اور دوسری تمام تکالیف ہیں جو عمومًا جہاد میں پیش آتی ہیں یعنی جو غازی غنیمت تو حاصل نہ کرسکے زخمی یا شہید ہوجائے۔

 ۴؎ یعنی اسے یہ تینوں چیزیں آخرت میں ملیں گی۔خیال رہے کہ غنیمت اور سلامتی کو اجر فرمانا اس لیے ہے کہ غزوہ میں یہ بھی رب تعالٰی کا عطیہ ہوتا ہے ورنہ غازی کا جہاد سلامتی اور غنیمت کے لیے نہیں ہوتا وہ تو صرف اعلاء کلمۃ اﷲ کے لیے جہادکرتا ہے۔
Flag Counter