Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
707 - 1040
حدیث نمبر707
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم لوگ اپنے میں شہید کسے گنتے ہو ۱؎ عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جو راہِ خدا میں مارا جائے تو وہ شہید ہے ۲؎ فرمایا تب تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۳؎ جو اﷲ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اﷲ کی راہ میں مرجائے وہ شہید ہے۴؎ اور جو طاعون میں مرجائے وہ شہید ہے ۵؎ اور جو پیٹ کی بیماری میں مرجائے وہ شہید ہے ۶؎(مسلم) ۷؎
شرح
۱؎ یہاں عد بمعنی شمار کرنا بھی ہوسکتا ہے اور بمعنی گمان کرنا بھی لہذا متعدی ہر دو مفعول ہے اور ما جنس کے سوال کے لیے بھی آتا ہے نوع کے سوال کے لیے بھی اور کسی وصف کے لیے بھی اور افراد کے سوال کے لیے بھی یہاں تمام معنی درست ہیں یعنی تم کس کس مسلمان کو شہید سمجھتے ہو یا کس صفت سے شہادت کا حاصل ہونا جانتے ہو۔(مرقات) شہید بروزن فعیل صفت مشبہ یا بمعنی مفعول ہے جیسے شہیر بمعنی مشہور یا بمعنی فاعل جیسے خریب بمعنی خارب اور یہ لفظ یا شہادت بمعنی گواہی سے بنا ہے یا شہود بمعنی حاضری سے  یا مشاہدہ بمعنی دیکھنے سے یعنی اپنے خون کے قطروں سے توحیدورسالت کی گواہی دینے والا یا جس کی بخشش و عزت کی قرآن و حدیث نے گواہی دی یا مرتے ہی رب تعالٰی کی بارگاہ میں یا جنت میں حاضر ہونے والا یا مرکر تمام جہان کا مشاہدہ کرنے والا یا جنت کی نعمتوں کو دیکھنے والا یا حضرات انبیاء کرام کی طرح دوسری امتوں پر گواہ،اوربھی اس کے بہت معنی ہیں۔(لمعات) ان کے مشاہدہ کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ"جو  اب تک ان سے نہ ملے ان پر خوشیاں منارہے ہیں کہ عنقریب وہ لوگ مرکر یا شہید ہو کر ہمارے پاس آنے والے ہیں۔

۲؎ یعنی شہادت کے لیے ہم نے دو شرطیں سمجھی ہیں:ایک قتل ہونا اور دوسرے راہ خدا میں قتل ہونا یعنی جہاد میں کفار یا باغیوں وغیرہم کے ہاتھوں قتل ہونا۔

۳؎ کیونکہ ان دو شرطوں سے بہت سے حقیقی شہید بھی نکل جائیں گے جیسے چور ڈاکو کے ہاتھوں مقتول اور حکمی شہداء تو سارے ہی نکل جاویں گے۔

۴؎ یعنی وہ قتل تو نہ ہو اپنی موت مرے مگر مرے اﷲ کی راہ میں جیسے حاجی سفر حج میں یا طالب علم طلب علم کے زمانہ میں اور جو اﷲ کا کام کرتے کرتے مرے یہ سب شہید ہیں۔

۵؎ یعنی جہان طاعون پھیلے وہاں سے بھاگ نہ جائے اور طاعون سے مرجائے وہ بھی شہید ہے کیونکہ وہ جنات کا مقتول ہے۔طاعون بنا ہے طعن سے بمعنی نیزہ مارنا طاعون والے کو محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم میں کوئی نیزے مار رہا ہے اس لیے اسے طاعون کہتے ہیں لہذا یہ شخص شہید ہوتا ہے۔

۶؎  پیٹ کی بیماریوں سے مرنے والا حکمًا شہید ہوتا ہے جیسے دست،درد،استسقاء،چونکہ ان بیماریوں میں تکلیف زیادہ ہوتی ہے کہ پیٹ کی خرابی تمام بیماریوں کی جڑ ہے اس لیے اس سے مرنے والا حکمًا شہید ہے۔حضرت جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ نے حکمی شہداء کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جس میں فرمایا ڈوب کر ہلاک ہونے والا،جل کر،دیوار وغیرہ سے دب کر مرنے والا،مسافر،مرابط،جو جمعہ کی رات یا دن میں مرے یہ سب شہید ہیں کہ قیامت میں شہداء کے زمرہ میں اٹھیں گے۔(مرقات) یہ سب کرامتیں حضور کی طفیل ہیں۔

۷؎ طبرانی نے کبیر میں بروایت سلمان فارسی حدیث نقل کی کہ حضور انور نے اس جواب میں فرمایا کہ اس کی راہ میں قتل طاعون،عورت کا نفاس میں مرجانا،جل کر مرنا،ڈوب کر مرنا،پیٹ کی بیماری سے مرنا،سل کی بیماری سے مرنا،یہ تمام شہادت ہیں۔(مرقات)
Flag Counter