۱؎ آپ صحابی بھی انصاری بھی،بدر اور تمام غزوات میں حاضر ہوئے،غزوہ احد میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ جانے پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ڈٹے رہے،پھر حضرت علی کے ساتھ رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر فرمایا،پھر فارس پر۳۸ھ میں کوفہ میں وفات پائی،امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہاں ہی دفن کیا۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ اسی طرح کہ دل سے شہادت کی آرزو کرے ،زبان سے دعا کرے اور بقدر طاقت جہاد کی تیاری کرے،موقعہ کی تاک میں رہے،صرف سچی دعا کو بھی بعض شارحین نے اسی میں داخل فرمایا ہے۔
۳؎ اسی طرح کہ یہ حکمی شہید ہوگا،جو جنت میں شہداء کے ساتھ رہے گا،رب تعالٰی کی عطا ہمارے وہم و گمان سے وراء ہے۔