| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ ربیع بنت براء ۱؎ جو حارثہ ابن سراقہ کی ماں ہیں ۲؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئیں بولیں یا رسول اﷲ آپ مجھے حارثہ کی کیوں خبرنہیں دیتے اور وہ بدر کے دن شہید کیے گئے تھے۳؎ کہ انہیں غائبانہ تیر لگا تھا اگر وہ جنت میں ہیں تو میں صبر کرلوں۴؎ اگر اس کے سوا ہو تو ان پر رونے میں کوشش کروں ۵؎ تو فرمایا اے ام حارثہ جنت بہت سی جنتیں ہیں ۶؎ اور تمہارے لخت جگر نے اعلیٰ درجہ کی فردوس حاصل کی ہے ۷؎ (بخاری)
شرح
۱؎ یعنی براء ابن عازب کی دختر نیک اختر،اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ یہ درست نہیں بلکہ آپ ربیع بنت نضر ہیں اور نضر حضرت انس ابن مالک کے چچا ہیں اور براء ابن مالک حضر ت انس کے بھائی ہیں،لہذا ربیع بنت نضر حضرت انس کی پھوپھی ہیں۔(اشعہ) ۲؎ آپ جنگ بدر میں سب سے پہلے شہید ہیں انصاری ہیں۔ ۳؎ یعنی انہیں غائبانہ تیر لگا مارنے والے کا پتہ نہ چلا تھا۔اگر کسی کو تیر مارا جائے اور لگ جائے دوسرے کے اسے بھی سہم غرب کہتے ہیں مگر یہاں پہلے معنے مراد ہیں۔مقصد یہ ہے کہ حضور میرے بچے حارثہ کا پتہ بتا دیجئے کہ وہ کہاں ہے جنت یا دوزخ میں۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کرام کا عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ تشریف فرما ہو کر جنت و دوزخ کے ہر مقام اور وہاں کے باشندوں کو دیکھ رہے ہیں،پتہ اس سے پوچھا جاتا ہے جو جانتا ہو۔حضور نے بھی یہ نہ فرمایا کہ مجھے خبر نہیں تیرا بیٹا کہاں ہے حضرت جبرئیل آئیں گے تو پوچھ کر بتائیں گے بلکہ فورًا بتادیا جو جنت کو دیکھ رہا ہے وہ زمین کے ذرہ ذرہ کو بھی دیکھ رہا ہے کیونکہ جنت بمقابلہ روئے زمین سے دور ہے،یہ ہی معنے ہیں حاضر ناظر کے،صحابہ کرام کا یہ ہی عقیدہ تھا۔ ۴؎ اور بالکل گریہ وزاری نہ کروں اس نعمت کی شکریہ میں۔خیال رہے کہ بی بی ربیع کو حضرت حارثہ کے شہید ہونے میں شک تھا کیونکہ وہ کفار سے لڑے بغیر غائبانہ تیر سے شہید ہوئے تھے نہ معلوم وہ تیر کافر نے مارا تھا یا کسی مسلمان کا ہی لگ گیا تھا۔اس نے یہ تردد ظاہر کیا،شہید کے جنتی ہونے میں شک نہ تھا کہ یہ تو قرآن مجید سے ثابت ہے خبر قرآنی میں کسی مسلمان کو شک و تردد نہیں ہوسکتا۔ ۵؎ یہاں رونے سے مراد جائز رونا ہے آنسوؤں سے نوحہ ماتم مراد نہیں کہ حضرات صحابہ اور صحابیات اس سے محفوظ تھے یعنی پھر میں اس محرومی پر روؤں کہ میرا بیٹا جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھا اور جنتی بھی نہ ہوا،اس محرومی پر رونا بھی عبادت ہے،جیسے اﷲ کی نعمت پر خوش ہونا عبادت ہے۔ ۶؎ جنت کے سو درجے ہیں اوپر تلے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ ۷؎ یعنی جنت کے درجوں میں سب سے اونچا درجہ جنت الفردوس ہے جو سب سے آخری درجہ ہے جس کے اوپر عرش الٰہی ہے تیرے بیٹے کو رب نے وہ دیاہے کہ اب اس کی روح فردوس کی سیر کررہی ہے،بعد قیامت وہ مع جسم اس میں داخل ہوگا۔یہ ہے میرے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کا علم غیب کہ حضور مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوکر جنت کے ہر طقبہ کے ہر باشندے کو دیکھ رہے ہیں اور آئندہ ہر سعیدوشقی اور ان کے درجوں مرتبوں کو بھی جانتے ہیں۔