۱؎ ضحك کے معنی ہیں ہنسنا،رب تعالٰی کے لیے یہ ناممکن ہے اس لیے بعض شارحین نے اس کے معنی کیے ہیں خوش ہونا،راضی ہونا،پسند فرمانا۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ضحك کے معنی ہیں پانی بہانا لہذا اس کے معنے ہوئے رحمتیں بہاتا ہے،یہ معنے نہایت لذیذونفیس ہیں۔
۲؎ یعنی یہ قاتل و مقتول دونوں ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جنت میں جاویں گے۔خیال رہے کہ دنیا کی تمام مسلمانوں کی ذاتی عداوتیں آخرت میں ختم ہوجاویں گی،یوں ہی دنیا کی جسمانی محبتیں بھی وہاں فنا ہوجائیں گی،ایمانی عداوت و رحمت باقی رہے گی،مسلمان باپ کافر بیٹے کو عذاب میں دیکھ کر خوش ہوگا اور اجنبی مسلمان دوسرے مسلمان کو عذاب میں دیکھ کر ملول ہوگا،اس کی سفارش و شفاعت کرکے اسے بخشوائے گا،یونہی وہ دو مسلمان جو دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے کے دشمن تھے وہاں دوست ہوجائیں گے۔رب فرماتاہے:" وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ" اور فرماتاہے: "اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیۡنَ"۔
۳؎ کہ پہلا بھی شہیدوسعید مرا اور دوسرا بھی شہید و سعید،دیکھو حضرت امیر حمزہ کو جناب وحشی نے شہید کیا اور پھر بعد میں خود بھی سعیدومؤمن ہوکر فوت ہوئے،رضی اللہ عنہما۔