۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں قتل مصدر مجہول ہے بمعنی قتل کیا جانا،شہید ہونا،اس کی تائید گزشتہ حدیث کررہی ہے،اور ہو سکتا ہے کہ قتل سے مراد قتل کرنا،یعنی جہاد کرنا ہو۔
۲؎ اس کی شرح ابھی ہوچکی۔قرض سے مراد وہ قرض ہے جس کا مطالبہ کرنے کا حق بندے کو ہو خواہ بیوی کا دین،مہر ہو،یا کسی سے لیا ہوا قرض،یا ماری ہوئی امانت،یا غضب کیا ہوا مال کہ یہ ہی بندوں کے حقوق ہیں،اپنے ذمہ رہی ہوئی زکوۃ فطرانہ،قربانی،ذمہ کی نذر یا روزہ نماز وغیرہ مراد ہیں،مرقات نے یہاں ان سب چیزوں کو دین مانا ہے مگر یہ قوی نہیں،ورنہ پھر تو کوئی گناہ معاف نہ ہونا چاہیےکیونکہ ہر گناہ رب تعالٰی کا وہ قرض ہے جو بندے نے مار لیا۔