Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
697 - 1040
حدیث نمبر697
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ دین قائم رہے گا اس پر مسلمانوں کی ایک جماعت جہاد کرتی رہے گی ۲؎ حتی کہ قیامت قائم ہوجاؤے ۳؎(مسلم)۴؎
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابوعبداﷲ ہے،عامری ہیں،حضرت سعد ابن وقاص کے بھانجے ہیں،آپ کی والدہ خالدہ بنت ابی وقاص ہیں،کوفہ میں رہے،وہاں ہی ۷۴ھ؁ میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی روئے زمین میں کہیں نہ کہیں جہاد ہوتا ہی رہے گا اگرچہ کبھی کسی خاص جگہ نہ ہو اور اس کے جہاد کی وجہ سے دین قائم رہے گا۔مرقات نے فرمایا کہ شام اور روم کے مسلمان اکثر جہاد کرتے رہیں گے۔ الحمدﷲ! حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی اب تک ظاہر ہورہی ہے کہ کہیں نہ کہیں جہاد ہوتا ہی رہتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد دائمی عبادت ہے کبھی منسوخ نہ ہوگا۔اس سے مرزائی عبرت پکڑیں جو جہاد کو منسوخ مانتے ہیں نعوذباﷲ! جو کوئی جہاد کو منسوخ مانے وہ ایسا ہی مرتد و کافر ہے جیساکہ نماز روزہ کو منسوخ ماننے والا۔

۳؎ یا تو اس سے قرب قیامت مراد ہے یا خود قیامت مراد،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کہ قیامت سے چالیس سال پہلے دنیائے اسلام و قرآن ختم ہوجائے گا،قیامت ان لوگوں پر قائم ہوگی جن میں کوئی اﷲ اﷲ کہنے والا نہ ہوگا پھر جہاد کیسا۔

۴؎  اسے ابوداؤد نے بھی روایت فرمایا۔ایک حدیث میں ہے کہ میری امت میں ایک ٹولہ ہمیشہ غالب رہے گا،اس کے مخالفین اسے کچھ نقصان نہ پہنچاسکیں گے۔مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث علماء کو شامل ہےکہ وہ حضرات قلم و زبان سے جہاد کرتے رہتے ہیں۔
Flag Counter