Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
698 - 1040
حدیث نمبر698
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں زخمی کیا جاتا اﷲ کی راہ میں کوئی ۱؎ اﷲ ہی جانے کہ کون اﷲ کی راہ میں زخمی کیاجاتا ہے ۲؎ مگر وہ قیامت کے دن اسی طرح آئے گا کہ اس کا زخم خون بہاتا ہوگا۳؎ رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی سی ہوگی ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ خواہ اس زخم سے موت ہوجائے یا نہ ہو۔

۲؎ اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ ہر شخص جو میدان جہاد میں زخمی ہو وہ فی سبیل اﷲ زخمی نہیں۔فی سبیل اﷲ زخمی وہ ہے جس میں ریا نیتِ دنیا نہ ہو،یہ رب ہی جانتا ہے کہ کون راہِ خدا میں زخمی ہوا اور کون طلب دنیا میں۔دوسرے یہ کہ اﷲ خوب جانتا ہے کہ راہ خدا میں زخمی کون ہوتا ہے اسے پوری پوری جزا دے گا۔جیسے "وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ"۔اس صورت میں یہ جملہ اس کی اظہار شان کے لیے ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کفار سے جہاد میں یا باغیوں ڈاکوؤں کے ہاتھوں زخمی  ہونے والا،یوں ہی تبلیغ دین کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والا اس میں سب شامل ہیں سب کا یہ ہی اجر ہے جو یہاں مذکور ہے۔

۳؎ یعنی اس کے زخم ہرے ہوں گے ان سے تازہ خون جاری ہوگا مگر اس دن تکلیف نہ ہوگی۔یہ خون جاری ہونا اس کے مجاہد ہونے کی نشانی ہوگی جس سے تمام محشر والے اس کی عزت کریں گے۔بعض روایات میں بجائے یثعب کے یتفجر ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں،یعنی بہانا۔

۴؎ لہذا وہ خون نہ تو نجس ہوگا نہ بدبودار بلکہ اس کی مہک سے محشر والے تعجب کریں گے اور اس شخص کا احترام کریں گے،جب زخمی کا یہ حال ہے تو راہ خدا عزوجل میں شہید ہونے والے کا کیا پوچھنا،یہ خوشبو عبادت کے اثر سے ہوگی جیسے روزہ دار کے منہ کی خوشبو رب تعالٰی کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔
Flag Counter