| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سامان دیا تو اس نے جہاد کیا ۲؎ اور جوکسی غازی کے گھر بار میں اس کا نائب بن کر رہا اس نے جہاد کیا ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،عبدالملک کے زمانہ میں کوفہ میں وفات پائی، ۷۸ھ میں بعض نسخوں میں یزید ابن خالد ہے۔ ۲؎ یعنی غازی کو سامان سفر سامان جنگ یا روٹی،کپڑا،سواری دینے والے کو بھی جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے،یہاں جہاد سے حکمی جہاد مراد ہے یعنی ثواب۔ ۳؎ یعنی جو مجاہد کے پیچھے اس کے بال بچوں کی خدمت اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے وہ بھی ثواب جہاد میں شریک ہوگیا کیونکہ اس کی اس خدمت سے غازی کا دل مطمئن ہوگا جس سے وہ جہاد اچھی طرح کرسکے گا تو گویا یہ شخص غازی کے اطمینانِ دل کا ذریعہ بنا۔