Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
692 - 1040
حدیث نمبر692
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں میں سب سے مفید زندگی اس شخص کی ہے ۱؎ جو اپنے گھوڑے کی لگام اﷲ کی راہ میں تھامے رہے جو اس کی پشت پر اڑ جاتا ہے جب کبھی گھبراہٹ یا طلب مدد کی آواز سنے اس پر اڑ کر پہنچے ۲؎ جو قتل و موت کو ان کے ٹھکانوں سے ڈھونڈھتا ہے۳؎  یا وہ شخص جو بکریوں میں رہے ان پہاڑ کی چوٹیوں میں سےکسی چوٹی میں یا ان جنگلوں میں سے کسی جنگل میں رہے ۴؎ نماز قائم کرے، زکوۃ دیتا رہے اور اپنے رب کی عبادت کرتا رہے ۵؎ حتی کہ اسے موت آجائے لوگوں میں سے یہ مرد صرف بھلائی میں ہی ہے ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ لفظ معاش عیش بمعنی زندگی سے بنا ہے زندگی گزارنے کا ذریعہ یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں مسلمان کی بہترین زندگی یہ ہے اور بہترین ذریعہ زندگانی یہاں دونوں معنی درست ہیں۔

۲؎ یعنی ویسے تو لوگوں سے بے نیاز رہتا ہے مگر جب مسلمانوں کو اس کی جانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے یا مسلمانوں پر کفار ٹوٹ پڑیں یا ڈاکو حملہ کریں اسے خبر لگے کہ فلاں جگہ مسلمان کمزور ہیں مصیبت میں ہیں تو فو رًا وہاں پہنچ جائے پرندہ کی طرح یا  اڑ کر وہاں پہنچ جائے،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں کہ جب کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو یہ وہاں پہنچ جائے اسلام کی خدمت مسلمانوں کی مدد کے لیے۔

 ۳؎ یعنی وہ اسلام کا ایسا فدائی ہو مسلمانوں کا ایسا مددگار ہو کہ خدمت اسلام و مسلمین میں قتل ہوجانا یا مرجانا جینے سے بہتر سمجھے،خطرناک موقعوں کی تلاش میں رہتا ہو جہاں لوگ جاتے ہوئے گھبراتے ہوں یہ وہاں شوق سے پہنچتا ہو بہادر جانباز ہو۔

۴؎ خلاصہ یہ ہے کہ اول نمبر کامیاب زندگی والا تووہ پہلا شخص ہے اس کے بعد نمبر دوم کا اعلیٰ زندگی والا وہ ہے۔خیال رہے کہ عرب میں بکریاں بہترین ذریعہ معاش تھیں اور بعض متقی حضرات دنیا کے جھگڑے سے بچنے کے لیے شہر سے دور جنگل میں ڈیڑہ ڈال لیتے تھے کسی پانی والے سر سبز مقام پر رہنے سہنے لگتے تھے، بکریوں کے دودھ پرگزاراکرتے،فتنوں سے الگ رہتے،اب بھی بعض جگہ ایسے بدو دیکھے جاتے ہیں اس لیے بکریوں کا ذکر فرمایا ورنہ جو شخص فتنوں سے بچنے کے لیے آبادی سے دور رہے گزارہ کے لیے کوئی چیز پنشن جانور زمین وغیرہ اختیار کرے وہ بھی اس فرمان عالی میں داخل ہے۔

۵؎ اگرچہ عبادات میں نمازوزکوۃ بھی داخل تھیں مگر چونکہ نماز و زکوۃ اعلیٰ درجہ کی عبادت ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر علیٰحدہ  فرمایا۔

۶؎ یقین سے مراد موت ہے کیونکہ اس کا آنا یقینی ہے یا چونکہ موت کے بعد ہر شخص کو توحید،رسالت، فرشتوں،جنت و دوزخ وغیرہ کا یقین ہوجاتا ہے اس لیے موت کو یقین فرمایا یعنی ذریعہ یقین رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الْیَقِیۡنُ"۔یہ حصر اضافی ہے یعنی دنیا دار فتنوں میں مبتلا آخرت سے غافل آدمی بھلائی میں نہیں بلکہ بھلائی میں صرف یہ ہیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اس حدیث کی بنا پر بعض زاہدین نے فرمایا کہ گوشہ نشینی افضل ہے،جلوت سے خلوت بہتر مگر حق یہ ہے کہ خلوت سے جلوت افضل،حضرات انبیاء کرام لوگوں میں رہے،تبلیغ کرتے رہے،نیز جس رہنے سے جمعہ عیدین نماز باجماعت نصیب ہوتی ہے،جنگل میں یہ نعمتیں کہاں،شہر میں علم ہے،ذکر کے حلقے ہیں،اچھوں کی صحبتیں ہیں۔حدیث فتنوں کے ظہور کے زمانہ کے متعلق ہے جب شہروں میں امن نہ رہے یا اس کمزور آدمی کے لیے ہے جو بستی اور اختلاط کی تکالیف پر صبر نہ کرسکے(مرقات)
Flag Counter