| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے غازیوں کی بیویوں کا احترام بیٹھ رہنے والوں کے ذمہ ایسا ہے جیسے اپنی ماؤں کا احترام ۱؎ اور بیٹھ رہنے والوں میں سے کوئی شخص نہیں جو مجاہدین میں سے کسی کے گھر والوں میں خلیفہ بنے ۲؎ پھر ان میں اس غازی کی خیانت کرے۳؎ مگر یہ خائن غازی کے سامنے قیامت کے دن کھڑا ہوگا پھر غازی اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے گا۴؎ اب تمہارا کیا خیال ہے ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ حرمت سے مراد یا حرام ہونا ہے حلت کا مقابل یا اس سے مراد عزت و حرمت ہے جیسے کہا جاتا ہے بیت اﷲ الحرام یعنی اگرچہ ہر غیر منکوحہ غیر مملوکہ عورت سے صحبت کرنا زنا ہے جس کی سزا رجم ہے مگر اپنی ماں سے صحبت کرنا سخت تر گناہ اور بے حیائی ہے ایسے ہی اگرچہ اور دوسری عورتیں بھی اس مسلمان پر حرام ہیں مگر مجاہد غازی کی بیوی زیادہ حرام،اگر کوئی مسلمان غازی کی بیوی سے زنا کرے بلکہ اسے بدنظری سے ہی دیکھے تو سخت عذاب کا،وبال کا،قہر الٰہی کا مستحق ہوگا کہ اس نے ایسے مقبول خدا کی خیانت کی جو راہ خدا میں جان کی بازی لگا رہا ہے یا جیسے ماں کی عزت و حرمت اولاد پر اشد ضروری ہے ایسے ہی مجاہد غازی کی بیوی کی عزت و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس کی حفاظت کریں،ان کی تکالیف دور کرنے کی کوشش کریں ان کا کام کاج کریں۔ ۲؎ اس طرح کہ غازی جہاد کو جاتے وقت اسے اپنے گھر کا نگران و منتظم بنایا گیا ہویا وہ تو اچانک میدان جہاد میں چلا گیا ہو،اس کے بال بچوں نے اسے اپنا سر پرست مان لیا ہو،یہ کلمہ دونوں معنی میں شامل ہے۔گھر والوں سے مراد بیوی،بچے،لونڈی اور بوڑھے ماں باپ وغیرہ سب ہی شامل ہیں۔ ۳؎ یہاں خیانت سے عزت،عصمت،مال،زمین وغیرہ تمام کی خیانتیں شامل ہیں۔ان میں سے کسی قسم کی خیانت کرے اس کی سزا وہی ہے جو آئندہ مذکور ہے۔ ۴؎ اگر چاہے گا تو اس خائن کی تمام عمر کی ساری عبادتیں چھین لے،روزے،نمازیں،حج،زکوۃ وغیرہ گویا یہ خیانت نیکیاں چھن جانے کا سبب ہے۔ ۵؎ یعنی خود خیال کرلو کہ مجاہد ایسے خائن کی کوئی نیکی چھوڑے گا ہرگز نہیں۔نیکی چھین لینے کے یہ معنے ہیں کہ اس خائن کو نیکی کا ثواب نہ ملے بلکہ جو اسے ثواب و درجہ ملتا وہ اس غازی کو دے دیا جائے یا یہ مطلب ہے کہ سوچو کہ رب تعالٰی کے ہاں مجاہد کی کیا عزت و حرمت ہے۔