۱؎ آپ کے حالات بار ہا بیان ہوچکے ہیں کہ آپ سہل ابن سعد ساعدی انصاری ہیں،پہلے آپ کا نام حزن تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بدل کر سہل رکھا،کنیت ابوالعباس ہے،حضور کی وفات کے وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی،آپ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی، ۹۱ھ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی ہیں جن کی وفات سب سے آخری میں ہوئی۔
۲؎ رباط ر کے کسرہ اور ضمہ کے ربط سے بنا ہے بمعنی باندھنا اس لیے بندھے گھوڑے کو خیل مربوط کہتے ہیں،قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الْخَیۡلِ"۔شریعت میں بہ نیت جہاد گھوڑا پالنے کو بھی کہتے ہیں اور اسلامی سرحد،باڈر پر کفار کے مقابل رہنے کو بھی جب کہ سرحد پر ہر وقت خطرہ ہو اور یہ مقابلہ کفار کے لیے ہر وقت وہاں تیار رہے یہاں رباط کے معنی دونوں بن سکتے ہیں۔
۳؎ یہ حدیث مختلف عبارتوں سے آئی ہے۔چنانچہ احمد نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے روایت کی ہے کہ ایک دن کا رباط ایک ماہ کے روزہ رات کی عبادت سے افضل ہے۔طبرانی نے حضرت ابوداؤد سے روایت کی ایک ماہ کارباط ہمیشہ کی روزی سے افضل ہے،جو مرابط ہو کر مرے گا وہ قیامت کی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا اور برزخ میں اسے صبح شام روزی جنت کی ہوا ملے گی قیامت تک اسے ثواب ملتا رہے گا۔