۱؎ صبح سے دوپہر تک کا جانا غدوہ ہے اور دوپہر سے شام تک کا وقت جانا رواح۔اﷲ تعالٰی کی راہ میں جانا اس کی بہت صورتیں ہیں:جہاد کے لیے جانا،نماز کے لیے مسجد میں جانا،طلب علم دین کے لیے مدرسہ یا استاذ کے پاس جانا مراد ہے اسی لیے مصنف اسے باب الجھاد میں لائے۔
۲؎ کیونکہ دنیا اور دنیا کی نعمتیں فانی ہیں اس کا ثواب باقی۔خیال رہے کہ دنیا کی چیز وہ ہے جس کا تعلق نفس سے ہو۔نماز،روزہ،حج وعبادات،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت وغیرہ عبادات دنیا میں تو ہیں مگر دنیا کی چیزیں نہیں تو ان کا تعلق قلب و روح سے ہے لہذا کوئی غازی اس صحابی کے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتا جو ایک بار ایمان و خلاص کے ساتھ حضور کو دیکھے پھر فوت ہوجائے ہم جیسے کروڑوں مسلمانوں کی عمر بھر کی عبادت ایک آن کے دیدار یار پر صدقے و قربان لہذا حدیث پر کوئی ا عتراض نہیں۔